اقوام متحدہ سے افغان حکومت نے پاکستان کی شکایت کی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274822-اقوام_متحدہ_سے_افغان_حکومت_نے_پاکستان_کی_شکایت_کی
حکومت افغانستان نے اس ملک پر پاکستان کے حملے جاری رہنے پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۲ Asia/Tehran

حکومت افغانستان نے اس ملک پر پاکستان کے حملے جاری رہنے پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے-

حکومت افغانستان نے اس شکایت نامے میں کہا ہے کہ گزشتہ دو مہینوں سے اب تک بارہ سو بار سے زائد مرتبہ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر میزائل داغے گئے ہیں- افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اس شکایت نامے میں کہا ہے کہ پاکستان کے یہ حملے علاقے اور دنیا کی سلامتی کے لئے شدید خطرہ ہیں-  اس سے قبل بھی افغانستان کے مشرقی صوبوں پر پاکستان کے میزائل حملوں کے بعد، اس ملک کی وزارت خارجہ نے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کیا تھا- افغانستان نے گزشتہ برسوں میں بھی اقوام متحدہ سے پاکستان کی شکایت کی ہے - افغانستان کے مشرقی صوبوں پر پاکستان کے میزائلی حملے ہی، ان شکایتوں کا سبب بنے ہیں- افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت خاص طور پر اس ملک کے صدر کی جانب سے پاکستان کی شکایت اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جانا اس امر کا غماز ہے کہ کابل کے حکام نے دو طرفہ کشیدگی کی روک تھام اور علاقے کے دیگر علاقوں تک اس کشیدگی کے پھیلنے کو روکنے کی پالیسی کو اپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے-

افغان حکومت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر ہونے والے میزائل حملوں کی بابت اقوام متحدہ میں شکایت کرکے ان حملوں کے بند کرائے جانے کے لئے اسلام آباد پر دباؤ ڈالا جائے- ایسے حالات میں پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر میزائل حملوں کے بارے میں، افغانستان نے اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے کہ اسلام آباد کی حکومت، افغانستان کے مشرقی صوبوں کو نشانہ بنانے کے لئے کسی بھی سمجھے بوجھےاقدام کو مسترد کرتی ہے-

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں پر دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر غلطی سے کئے گئے ہیں یا پھر یہ میزائل حملے طالبان گروہ کی جانب سے اسلام آباد کو بدنام کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان کی حکومت پاکستان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کرتی ہے کہ ان حملوں کی وجوہات پر توجہ کئے بغیر اسلام آباد کو چاہئے کہ ان حملوں کو فوری بند کرائے-

اس امر کے پیش نظر کہ ماضی میں بھی افغانستان،  پاکستان کی سرزمین سے افغانستان کے مشرقی علاقوں پر ہونے والے میزائل حملوں کی اقوام متحدہ میں شکایت کرچکا ہے اور ان حملوں کے بند کرانے میں یہ شکایت کارگر بھی ثابت نہیں ہوئی ہے لہذا اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ کابل کی جانب سے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں اسلام آباد کی شکایت، ان حملوں کو بند کرانے کے لئے پاکستان کو مجبور کرنے میں مؤثر ثابت نہ ہو-

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ امریکہ اور نیٹو میں اس کے اتحادی ممالک پندرہ برسوں سے زیادہ عرصے سے افغانستان کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں اور وہ افغانستان میں دہشت گردی پر قابو بھی نہیں پا سکے ہیں اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان پر میزائل حملے رکوانے کے سلسلے میں یہ ممالک، پاکستان کو مجبور کرنے کی توانائی سے بہرہ مند نہیں ہیں-

عالمی سطح پر امن و سلامتی کے تحفظ اور فراہمی میں سلامتی کونسل کے بارے میں اقوام متحدہ کے واضح منشور کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سلامتی کونسل، پاکستان کے ذریعے افغانستان کے علاقوں پر میزائل حملوں کے سلسلے میں افغانستان کی جانب سے پیش کی گئی درخواستوں کا جائزہ لے اور اس سلسلے میں اپنی قانونی ذمہ داریوں پر عمل کرے - ا