سفیر ایران کے ساتھ آنگ سانگ سوچی کی ملاقات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274824-سفیر_ایران_کے_ساتھ_آنگ_سانگ_سوچی_کی_ملاقات
تھائیلینڈ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور میانمار میں accredited ambassdor محسن محمدی نے میانمار کے دارالحکومت نیپیداو میں اس ملک کی وزیر خارجہ آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اور دوطرفہ روابط کے فروغ نیز علاقے کے مسائل کے بارے میں گفتگو کی-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۳ Asia/Tehran
  • سفیر ایران کے ساتھ آنگ سانگ سوچی کی ملاقات

تھائیلینڈ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور میانمار میں accredited ambassdor محسن محمدی نے میانمار کے دارالحکومت نیپیداو میں اس ملک کی وزیر خارجہ آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اور دوطرفہ روابط کے فروغ نیز علاقے کے مسائل کے بارے میں گفتگو کی-

اس ملاقات میں اسی طرح میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سفیر ایران نے ان مسلمانوں کی ابتر صورتحال پر حکومت کی جانب سے توجہ دیئے جانے اور روہنگیا مسلمانوں کے خلاف خونریز تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا - ایسا تشدد کہ جسے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے جنگی جرائم قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم مشنوں اور اہداف میں سے ایک، ہمیشہ دنیا کے مظلوم عوام کی مدد و نصرت کرنا رہا ہے اور ایران نے کبھی بھی مظلوموں کے خلاف روا رکھے جانے والے ظلم و ستم کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کی ہے- اس لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران نے روہنگیا کے مسلمانوں کے مسائل و مشکلات اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے متعلق خبریں اور رپورٹیں نشر کرکے اس بات کی کوشش ہے کہ جہاں ان مظلوم مسلمانوں کی صورتحال سے اقوام عالم کو آگاہ کیا جائے وہیں عالمی اور علاقائی دباؤ کے ذریعے روہنگیا کے مسلمانوں کے خلاف خونریز تشدد کا خاتمہ کیا جائے-

اس امر کے پیش نظر کہ روہنگیائی مسلمان عام طور پر میانمار کے صوبے راخین میں اور اس ملک کی حکومت کے ماتحت زندگی گزار رہے ہیں اس لئے اسلامی جمہوریہ ایران میانمار کی حکومت کے ذریعے سے روہنگیا مسلمانوں کے مسائل و مشکلات کے خاتمے اور بحران کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا خواہاں ہے- اسی سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نام ایک مراسلے میں، اس عالمی ادارے سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام بند کرائے جانے کے لئے میانمار کی حکومت کے ساتھ تعاون اور کوششیں انجام دینے کا مطالبہ کیا ہے- میانمار کی حکومت نے روہنگیا کے مسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کر دیا ہے اور وہ ان کو بنگالی مہاجر قرار دیتی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ روہنگیا کی قوم، ظہور اسلام سے قبل آراکان کے علاقے میں جو موجودہ راخین ہے، زندگی گزارتی آرہی ہے - واضح رہے کہ برما کا ایک صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں ہارون رشید کے عہدِ خلافت میں مسلم تاجروں کے ذریعے اسلام پہنچا، اس ملک میں مسلمان بغرض تجارت آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی، اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثر ہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اور ایسی قوت کے مالک بن بیٹھے کہ 1430ء میں سلیمان شاہ کے ہاتھوں اسلامی حکومت قائم ہوئی، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی، مسجدیں بنائی گئیں، قرآنی حلقے قائم کئے گئے، مدارس و جامعات کھولے گئے، ان کی کرنسی پر’ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے خلفائے راشدین کے نام درج ہوتے تھے۔

اس ملک کے پڑوس میں برما تھا جہاں بودھوں کی حکومت تھی، مسلم حکمرانی، بودھوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784ء میں اراکان پر حملہ کردیا، بالآخر اراکان کی اینٹ سے اینٹ بجادی،  اسے برما میں ضم کرلیا اور اس کا نام بدل کر میانمار رکھ دیا۔  ان حقائق کے پیش نظر میانمار کی حکومت اور فوج کے لئے روہنگیا کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنا ممکن ہے تاکہ وہ اپنے آباء و اجداد کی سرزمین میں ماضی کی طرح بودھوں کے ساتھ پرامن زندگی گزار سکیں - میانمار کی منڈیلا سٹی کے مسلمانوں کے ساتھ ایران کے سفیر کی ملاقات اور وہاں کے شیعوں یا سنی مسلمانوں سے باہمی اتحاد و وحدت پر تاکید اور ساتھ ہی بودھوں کے ساتھ پر امن طور پر زندگی گزارنے کی اپیل، میانمار میں اقلیتوں کے بحران سے نمٹنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی کی غماز ہے- یہ ملک جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم آسیان کا بھی رکن ہے اور علاقے میں اسٹیرٹیجک پوزیش کا حامل ہے-م