غزہ پٹی کا دس سال سے جاری ظالمانہ محاصرہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274938-غزہ_پٹی_کا_دس_سال_سے_جاری_ظالمانہ_محاصرہ
گزشتہ دس سال سے غزہ پٹی کا محاصرہ جاری ہے اور خواتین اور بیمارافراد اس محاصرے کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۴:۴۷ Asia/Tehran
  • غزہ پٹی کا دس سال سے جاری ظالمانہ محاصرہ

گزشتہ دس سال سے غزہ پٹی کا محاصرہ جاری ہے اور خواتین اور بیمارافراد اس محاصرے کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔

غزہ پٹی میں فلسطینی خواتین کی کمیٹیوں کی یونین کی سربراہ تغرید جمعہ نے غزہ پٹی کی خواتین کی نہایت افسوس ناک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پٹی کی خواتین کو ابھی تک تین جنگوں اور محاصرے سے پیدا شدہ سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

غاصب صیہونی حکومت دس سال سے یعنی سنہ 2007 سے اب تک غزہ پٹی کا محاصرہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ صیہونی حکومت کا یہ اقدام، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور کے مطابق انسانیت کے خلاف اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے، غزہ کے لوگوں کے لئے بدستور سنگین مسائل و مشکلات کا سبب بنا ہوا ہے۔ غزہ پٹی کی خواتین غاصب صیہونی حکومت کے اس مجرمانہ اقدام کا سب سے زیادہ شکار ہوئی ہیں۔

2008 اور 2014 کی جنگوں میں غزہ پٹی کی سینکڑوں فلسطینی خواتین کے شوہر شہید ہوگئے تھے اور اب یہ خواتین اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہیں لیکن غزہ پٹی کا محاصرہ اس علاقے میں، خاص طور سے خواتین کے لئے،  بے روزگاری میں اضافے کا سبب بنا ہے اور غزہ پٹی کی خواتین کے درمیان  بے روزگاری کی شرح 38 فی صد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں، کم آمدنی پر کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کے علاوہ فلسطینی بیمار افراد بھی غزہ پٹی کے اسرائیلی محاصرے کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں۔ فلسطین کی وزارت صحت میں بیرونی علاج معالجے کے ادارے کے سربراہ بسام البدری نے غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک کانفرنس میں کہا کہ غزہ پٹی کے پچاس فی صد بیمار افراد کو غزہ پٹی سے باہرعلاج کے لئے اسپتالوں میں داخلے کی ضرورت ہے اور وہ گزرگاہیں بند ہونے کی وجہ سے اپنے اس حق سے محروم ہیں۔ ان بیمار افراد میں بہت سی خواتین بھی شامل ہیں۔

ادھر غزہ پٹی کے طبی مراکز کو دواؤں کی شدید قلت اور علاج معالجے سے متعلق وسائل کے فقدان کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان مراکز میں مریضوں کے علاج کا امکان نہیں پایا جاتا۔ ایسی حالت میں بہت سے مریض، خاص طور سے سرطان اور اسی طرح کے سنگین امراض میں مبتلا افراد، دواؤں کی قلت اور صیہونی حکومت کی طرف سے غزہ پٹی کے طبی مراکز کو دواؤں کی فراہمی پر پابندی کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دواؤں کی قلت اور علاج معالجے کے وسائل کے فقدان کی وجہ سے غزہ پٹی کے فلسطینیوں کی موت مریضوں کی خاموش موت میں تبدیل ہوگئی ہے۔

صحت اور علاج معالجے سے متعلق انہی سخت حالات کے سبب بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا غزہ پٹی میں انسانی المیہ رونما ہونے کی بابت خبردار کیا تھا۔ اس سب کے باوجود نہ صرف غاصب اسرائیل غزہ پٹی کا دس سالہ محاصرہ ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ عالمی طاقتوں کا بھی یہ ظالمانہ محاصرہ ختم کرانے کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔