عراق کے نام پر کوئی بھی کانفرنس مسترد
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے تاکید کی ہے کہ عراق پر ہر طرح کی داخلی اور بیرونی اجارہ داری اور عراق کے ٹکڑے کرنے کے لئے کسی بھی ملک میں ہونے والی نشست ناقابل قبول ہے.
سلیم الجبوری نے جمعے کے دن عراق کے مستقبل کے سلسلے میں بعض علاقائی حکومتوں اور امریکہ کی حمایت سے ہونے والے اجلاس اور عراق میں ہر طرح کی مداخلت کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت ہر طرح کی بیرونی مداخلت کے سامنے ڈٹی رہے گی۔
ابھی عراق میں جنیوا میں ایک امریکی ادارے کی کرائی گئی کانفرنس پر تنازعہ ختم نہیں ہوا ہے کہ اس مرتبہ ایک مشکوک کانفرنس ترکی کے شہر استنبول میں ہوئی ہے جس کے اہداف بھی جینوا میں ہونے والی کانفرنس ہی کی طرح ہیں اور اس میں داعش کے بعد عراق کے اہل سنت کے مستقبل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس ترک حکومت کی منصوبہ بندی اور حمایت سے انجام پائی ہے جبکہ قطر اور سعودی عرب نے اس کی مالی حمایت کی ہے۔
جنیوا اور استنبول میں ہونے والی کانفرنسوں میں عراق کی ان شخصیتوں اور گروہوں نے شرکت کی جن پرامریکہ اور علاقائی ملکوں کی حمایت سے دہشتگرد گروہوں سے تعاون کرنے کا الزام ہے۔ ان شخصیتوں اور گروہوں نے عراق کی تقسیم کے بارے میں ملاقاتیں کی ہیں۔ واضح رہے کہ جنیوا میں ہونے والی کانفرنس امریکہ اور یورپ کے دو اداروں اور سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل پیٹرئیس کی صدارت میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ کانفرنس امریکی ادارے نیٹو کونسل اور یورپی ادارہ یورپین انسٹی ٹیوٹ فار پیس نے کی تھی۔ یہ کانفرنس سنی ملک کی تشکیل اور داعش کے بعد اہل سنت کے آپشنوں کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہوئی تھی۔
عراق میں عوامی فورسز اور عراقی فوج کے ہاتھوں دہشتگردوں کی پے درپے شکستوں کے بعد دہشتگردوں اور ان کے حامیوں نے عراق میں بھرپور طرح سے فرقہ واریت کے فتنوں کو ہوا دی ہے۔ ان حالات میں عراقی عوام کے تمام طبقوں کی جانب سے اپنے ملک کے خلاف جاری سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا نہایت ضروری ہے۔ چونکہ عراق کے سارے عوام خواہ سنی ہوں یا شیعہ داعشی دہشتگردی کا نشانہ ہیں، دہشتگردی کو نابود کرنے کےلئے عراقی پارٹیوں کا اتفاق اور اس کو آئین کے تحت تمام شعبہ ہائے حیات میں وسعت دینا نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ عراق میں واحد محاذ تشکیل دینے سے داعش کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے عراقی قوم کی توانائیوں میں اضافہ ہوجائے گا اور تمام شعبہ ہائے حیات میں عراقیوں کا قومی اتحاد ان کے ملک کو ٹکڑے ہونے سے بچالے گا۔ آج عراق نہایت حساس اور تاریخی دور سے گزر رہا ہے اور ہر طرح کا سیاسی اختلاف عراق کے نقصان میں ہوگا۔ عراق میں مختلف گروہ اور مذاہب پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان پرامن بقائے باہمی داعشی دہشتگردی جیسے سخت مرحلوں سے گزرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ عراق میں قومیت کے عامل سے علاقائی ممالک اور بیرونی ممالک بہت فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اس سلسلے میں سیاسی حلقوں نے بھی کافی خبردار کیا ہے کہ امریکہ عراق کے ٹکڑے کرکے مشرق وسطی میں اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ عظیم تر مشرق وسطی کے بارے میں شائع شدہ نقشوں سے پتہ چلتا ہے کہ عراق بھی اس سازش کی لپیٹ میں آچکا ہے اور اس کے بھی ٹکڑے کرنے کی سازش بنالی گئی ہے۔ داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف جنگ میں عراقی مرکزی حکومت سے ہٹ کر ان گروہوں کی اسلحہ جاتی مدد کرنا اور اسی کے ساتھ ساتھ عراق کے ٹکڑے کرنے کی بات کرنا قابل غور نکتہ ہے اور اس کا ایک ہی ھدف ہے وہ عراق کے ٹکڑے کرنا ہے۔ واضح رہے کہ داعشی دہشتگردی کے مقابلے میں عراق کی قوم کا منجملہ اھل سنت کا عراقی فوج کی حمایت کرنا عراق کی ارضی سالمیت کی حمایت کرنے میں عراقی قوم کے اتحاد کی نشانی ہے۔