امریکہ کی منہ زوری روبہ زوال
امریکی فوج میں سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے ایران کو علاقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بتایا ہے۔
امریکی وزارت دفاع کی ویب سائٹ کے مطابق جنرل ووٹل نے امریکی سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے ایران کے خلاف الزامات لگائے ہیں اور کہا ہے کہ ہمیں علاقے میں ایران کی متعدد شرپسندانہ کاروائیوں اور اس کی پراکسی فورسز کا سامنا ہے۔ امریکہ کے اس جنرل نے ایسے عالم میں ایران پر یہ الزامات لگائے ہیں کہ علاقے کے موجودہ حقائق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ علاقے میں امریکہ نے محض غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی اقدامات انجام دئیے ہیں۔ امریکہ کی اس کارکردگی سے انتہا پسندی اور دہشتگردی نے جنم لیا ہے اور القاعدہ، داعش نیز جبھۃ النصرۃ امریکہ کی مذموم پالیسیوں سے حاصل ہونے والے نتائج کا چھوٹا سا نمونہ ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کی جانب سے ایران پر لگائے جانے والے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کا جواب دیتے ہوئے اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا اور ان اقدامات کی تلخ تاریخ اور کئی دہائیوں سے خلیج فارس کے عوام بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی غلط پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس علاقے کی بعض حکومتوں کو پیشرفتہ ہتھیار فروخت کرکے، بعض ملکوں میں جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکانے، کشیدگی بڑھانے، سیکورٹی دباؤ بڑھانے اور سیاسی لحاظ سے گھٹن بڑھانے میں نہایت منفی رول ادا کیا ہے اور آج بھی اس کا یہ کردار جاری ہے۔ ان پالیسیوں سے علاقے میں نہایت بھیانک نتائج برآمد ہوئے ہیں جو ساری دنیا دیکھ سکتی ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔
امریکی حکام حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے علاقے کے مستقبل کے تعلق سے خود کو تعمیری کردار کا حامل ظاہر کرنا اورخود کو ایک اچھے پولیس مین کے روپ میں پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا حقائق کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟ امریکہ کو عادت ہوچکی ہے کہ وہ حقائق کو پنہاں کرکے دوسروں کو قصور وار ٹھہراتا ہے اور اسی وجہ سے مسلسل الزام لگاتا رہتا ہے۔ ان میں بعض الزامات داخلی استعمال کے ہیں لیکن بعض دیگر الزامات امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ظاہر ہوئے ہیں جن کا ایک نمونہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ووٹل کے الزامات ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ امریکہ ایسے بحران میں گرفتار ہوچکا ہے جو اس نے خود پیدا کیا ہے اور سوچتا ہے کہ ان حالات میں بہترین دفاع، حملے کرنا ہے۔ امریکہ کی تسلط پسندی اور منہ زوری روبہ زوال ہے اور یہ بات دنیا کے حقائق سے صاف ظاہر ہے کیونکہ ہر چیز اب امریکہ کی منشا کے مطابق نہیں ہوتی ہے۔ ان تبدیلیوں کے آثار امریکہ کی داخلی اور خارجہ پالیسی میں ظاہر ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم امریکہ کی منہ زوری کے بعد کے زمانے کی بات کرسکتے ہیں۔ امریکہ کو علاقائی اور عالمی سطح پر حقائق کا صحیح ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ حالات کا صحیح ادراک نہیں کرے گا دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتا رہے گا حالانکہ اس روش سے امریکہ کی کوئی مشکل حل نہیں ہوسکتی۔ اس بات میں کسی طرح کا شک نہیں ہے کہ علاقے میں جنگیں اور کشیدگی، امریکہ کی مداخلت اور امریکی حکام کی منفی پالیسیوں کا نتیجہ ہے یا پھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بقول امریکہ کی غلطیاں امریکہ کی توسیع پسندی اور مشرق وسطی کے اسٹریٹیجک علاقے سے اس کی عدم شناخت اور صیہونی حکومت کی بے دریع حمایت کا نتیجہ ہیں۔