شام میں امریکہ اور ترکی کی افواج کا وجود جارحیت ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i275226-شام_میں_امریکہ_اور_ترکی_کی_افواج_کا_وجود_جارحیت_ہے
شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ امریکہ اور ترکی کی افواج شام کی اجازت کے بغیر شام میں داخل ہوئی ہیں لہذا وہ جارح ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۱ Asia/Tehran
  • شام میں امریکہ اور ترکی کی افواج کا وجود جارحیت ہے

شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ امریکہ اور ترکی کی افواج شام کی اجازت کے بغیر شام میں داخل ہوئی ہیں لہذا وہ جارح ہیں۔

دمشق حکومت نے بارہا تاکید کی ہے کہ شام کی سرزمین میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات شام کی مرکزی حکومت کے ساتھ ہماہنگی سے انجام پانے چاہیے۔ امریکہ اور ترک حکومت کے فوجی ایسے میں شام میں داخل ہوئے ہیں کہ شام نے ان دونوں ملکوں سے کسی طرح کا معاہدہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی شام نے امریکہ اور ترکی سے اس طرح کی کوئی درخواست کی ہے۔ شام میں ترکی اور امریکہ کی مہم جوئی اس لحاظ سے صحیح نہیں ہے کہ وہ علاقے میں دہشتگردی سے نام نہاد مقابلہ کرنے اور امن و استحکام لانے کے لئے جو کاروائیاں کررہے ہیں وہ علاقے میں کشیدگی میں شدت آنے کا سبب بنی ہیں۔ شام میں ترکی اور امریکہ کے اقدامات ایک طرح کی جارحیت ہیں جو عالمی قوانین کے خلاف ہیں، اس کےعلاوہ کسی بھی ملک میں فوجی کاروائیاں کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سابق امریکی صدر باراک اوباما کا خود سرانہ طور پر شام میں داعش کے خلاف اتحاد قائم کرنا ایک ایسی بدعت ہے جس سے امن عالم کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین سے ہٹ کر ہر طرح کے خودسرانہ اقدامات جن میں ملکوں کے اقتدار اعلی کا احترام نہیں کیا جاتا وہ اس ملک کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے اور داعش سے مقابلے کا دعوی شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی مخالفت کا بہانہ نہیں بن سکتا۔ بہر حال ترکی اور امریکہ کی متضاد، غیر شفاف اور بار بار بدلنے والی خارجہ پالیسیاں اور دہشتگردوں خاص کر داعش کے ساتھ ان کے خفیہ اور اعلانیہ تعلقات سے دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے ان کے دعووں پر شدید شکوک وشبہات پیدا کردیتے ہیں۔

بلاشبہ دہشتگردوں کے خلاف شام کی فوج کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں سے ان کے حامی تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں اور انہوں نے شام میں اپنے فوجی اقدامات میں تیزی لاکر دہشتگردوں کو مکمل شکست سے بچانے کی کاروائیاں شروع کردی ہیں۔ دوسری طرف سے ترکی اور امریکہ نے اپنی مکارانہ پالیسیوں کے ذریعے یہ ظاہر کرنا شروع کردیا ہے کہ شام میں دہشتگردوں کے مقابل کامیابی امریکہ اور ترکی کے فوجی اقدامات کی وجہ سے ہے۔ اس طرح امریکہ اور ترکی ، شام میں اپنے اہداف حاصل کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی اور امریکہ شام میں نام نہاد پرامن علاقے قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ اس طرح سے دہشتگردوں کی حفاظت کرکے ان کی تنظیم نو کریں اور شام کے ٹکڑے کردیں۔ ان اقدامات پر شام کے حکام تشویش میں مبتلا ہیں اور صدر بشار اسد کے بیانات اور موقف سے عالمی رائے عامہ ان سازشوں کی جانب متوجہ ہوئی ہے کہ جو ترکی اور امریکہ شام کے عوام کے خلاف رچ رہے ہیں-