آستانہ مذاکرات میں تاخیر کا مطالبہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i275334-آستانہ_مذاکرات_میں_تاخیر_کا_مطالبہ
ایسے میں جبکہ آستانہ مذاکرات تین کے انعقاد میں اب صرف دو روز باقی بچے ہیں، شام کے مخالفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان مذاکرات کو مؤخر کردیا جائے۔
(last modified 2026-07-27T14:26:43+00:00 )
Mar ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۲ Asia/Tehran
  • آستانہ مذاکرات میں تاخیر کا مطالبہ

ایسے میں جبکہ آستانہ مذاکرات تین کے انعقاد میں اب صرف دو روز باقی بچے ہیں، شام کے مخالفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان مذاکرات کو مؤخر کردیا جائے۔

آستانہ تین مذاکرات کے موخر کئے جانے کا مطالبہ شام کے مخالفین کی فوجی کمیٹی نے کیا ہے۔قزاقستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت دمشق اور مخالفین کے نمائندوں کے درمیان چودہ اور پندرہ مارچ کو قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں مذاکرات ہوں گے۔ واضح رہے کہ کچھ دنوں قبل آستانہ میں شام کے بارے میں مذاکرات کے دو دور اور جنیوا میں ایک دور ہوچکا ہے۔ آستانہ اجلاس اور جنیوا چار اجلاس چند روز تاخیر سے منعقد ہوئے تھے اور بظاہر آستانہ تین اجلاس بھی کچھ دنوں کی تاخیر سے منعقد ہوگا-

شام کی حکومت کے مخالفین نے مذاکرات کو موخر کرنے کے لئے یہ بہانہ پیش کیا ہے کہ شام کی حکومت جنگ بندی پر کاربند نہیں ہے اور ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں آبادی کا تناسب بگاڑ دیا گیاہے۔ شام میں حلب کی آزادی کے بعد انتیس دسمبر سے جنگ بندی لاگو ہے۔ شام کی حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں مخالفین کا محاصرہ اور انہیں ان علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور کیا جانا، جنگ بندی کی مخالفت شمار ہوتی ہے لھذا مخالفین نے آستانہ مذاکرات سے پہلے جنگ بندی قائم رکھنے کے طریقہ کار پر گفتگو کئے جانے کی مانگ کی ہے۔ موجودہ حالات میں مخالفین کمزور پوزیشن میں ہیں لیکن یہ کوشش کررہے ہیں کہ ایسی شرطیں رکھیں جو جنگی حالات سے ساز گار نہیں ہیں۔ مخالفین اس طرح شام کی حکومت کی برتری کو کم رنگ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

دوسرا موضوع اور البتہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ آستانہ مذاکرات میں تاخیر کا سبب شام کے بحران کے بیرونی فریقوں کی بارگیننگ بھی ہے ۔ شام کے بحران کے بارے میں امریکی حکومت کا موقف فی الحال واضح نہیں ہے اور یورپی ممالک بھی ماضی کی طرح اس بحران میں برتر پوزیشن کے حامل نہیں ہیں۔ سعودی عرب، جس نے صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کے لئے بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا ہے، جنیوا چار مذاکرات میں پرانی پوزیشن کا حامل نہیں تھا- ترکی نے روس کے چینل سے اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ وہ شام کے مخالف گروہوں کا سب سے بڑا حامی ہے، آستانہ اجلاس دو اور جینوا اجلاس چار میں اس بحران کے حل کے لئے ایک سیاسی طریقہ کار حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے۔

شام کے بحران میں ملوث بیرونی فریقوں کے ہاتھوں پیدا کی گئی صورتحال کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور روس جیسے ممالک ہیں، جنہوں نے ہمیشہ شام کے عوام کے حق خود ارادیت پر تاکید کی ہے۔ شامی فوج کی پے درپے کامیابیوں کی بنا پر شام ، آستانہ اور جنیوا مذاکرات میں برتری کے ساتھ شرکت کرے گا۔ لہذا ایسا لگتا ہے کہ آستانہ مذاکرات کو موخر کرنے کی مخالفین کی یہ دلیل بھی ہوسکتی ہے کہ وہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن کو بہتربنانا اور روس اور ایران میں اختلاف ڈالنے کی کوشش کریں۔ آستانہ دو مذاکرات میں امریکہ اور اردن جیسے ممالک کی شرکت اور انہیں دوبارہ آستانہ تین میں شرکت کرنے کی دعوت دینا اسی ہدف سے انجام پایا ہے۔ ادھر امریکہ، ترکی اور سعودی عرب یہ کوشش کررہے ہیں کہ شام کی جنگ میں روس کو مراعات دے کر اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن کو کمزور کردیں-