صیہونی حکومت ایک نسل پرست حکومت ہے: اقوام متحدہ
مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن نے بدھ کے روز اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیل کو فلسطینیوں پر ایک نسل پرست حکومت مسلط کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی نائب اور مغربی ایشیا کے لیے اقتصادی اور سماجی کمیشن کی سربراہ ریما خلف نے کہا ہے کہ پہلی بار ہے کہ اقوام متحدہ سے وابستہ ایک ادارے نے آشکارا طور پر اسرائیل کو ایک نسل پرست حکومت قرار دیا ہے۔ مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کا اقتصادی اور سماجی کمیشن اس علاقے کے اٹھارہ ممالک پر مشتمل ہے اور اس کے رکن ملکوں میں اقتصادی اور سماجی ترقی کی حمایت اس کے اہداف میں شامل ہے۔
فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسی کے بارے میں اس کمیشن کی رپورٹ اس کے رکن ملکوں کی درخواست پر تیار کی گئی ہے۔ اس کمیشن کا یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں اسرائیل کے خلاف پہلا اقدام ہے کہ جنہوں نے بیس جنوری دو ہزار سترہ سے بنیامین نیتن یاہو کی جنگ پسند کابینہ کی سیاسی و سفارتی حمایت میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی وائٹ ہاؤس میں آنے سے پہلے ہی امریکہ کی تمام داخلی توانائیوں کو اسرائیل کی حمایت کے لیے استعمال کیا اور عملی طور پر ظاہر کر دیا کہ واشنگٹن، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل پرست حکومت کا اصلی حامی ہے۔
سلامتی کونسل میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کی مذمت کی قرارداد منظور ہونے کے بعد امن و سلامتی کے حامی اس بین الاقوامی ادارے کی مالی امداد منقطع کرنے کی امریکی دھمکی، سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف پالیسیوں میں شدت آنے کی بنا پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے نکلنے کی دھمکی اور اب مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرنے پر اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نیکی ہیلی کی تاکید، مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسی کے راستے کو ہموار کرنے کے مترادف ہے۔
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے ہیں تب سے اسرائیل کی نسل پرست حکومت نے فلسطیینوں کے خلاف ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان، صیہونی کالونیوں کی تعمیر میں تیزی، اسرائیل کی پارلیمنٹ میں مقبوضہ بیت المقدس کی مساجد سے اذان نشر کرنے پر پابندی کے نسل پرستانہ قانون کی منظوری اور فلسطینی معاشرے کے تمام طبقات کو مسجد الاقصی میں داخل ہونے سے روکنا، ان اقدامات کے صرف چند نمونے ہیں جو صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف انجام دیے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانا اور غزہ پٹی کا دس سال سے جاری محاصرہ ان نسل پرستانہ اقدامات کا ایک حصہ ہیں جو صیہونی حکومت نے امریکہ کی مخلتف حکومتوں کی حمایت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی کمزوری اور معنی خیز خاموشی کے سائے میں انجام دیے ہیں۔
اسرائیل کے اقدامات اور جرائم کے نسل پرستانہ ہونے کی ماہیت اس حد تک آشکارا اور نمایاں ہے کہ جس نے اقوام متحدہ کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ مغربی ایشیا کے لیے اس ادارے کے اقتصادی اور سماجی کمیشن کی مفصل رپورٹ میں اس سرزمین پر نسل پرستی کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرے ۔