حرم امام رضا علیہ السلام کے زائرین سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i276484-حرم_امام_رضا_علیہ_السلام_کے_زائرین_سے_رہبر_انقلاب_اسلامی_کا_خطاب
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے منگل کے روز سہ پہر کو نوروز کی آمد اور نئے ایرانی سال کے آغاز کی مناسبت سے ایران کے مذہبی شہر مشہد میں واقع حضرت امام رضا علیہ السلام کی مقدس بارگاہ میں عوام سے خطاب کیا اور ایران سے متعلق اہم ترین مسائل بیان کئے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۶:۲۵ Asia/Tehran
  • حرم امام رضا علیہ السلام کے زائرین سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے منگل کے روز سہ پہر کو نوروز کی آمد اور نئے ایرانی سال کے آغاز کی مناسبت سے ایران کے مذہبی شہر مشہد میں واقع حضرت امام رضا علیہ السلام کی مقدس بارگاہ میں عوام سے خطاب کیا اور ایران سے متعلق اہم ترین مسائل بیان کئے-

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نےاستقامتی معیشت پر توجہ دینے، اور ملکی معیشت کے معیاروں اور بنیادی اصولوں کے ٹھوس اور کمزور پوائنٹ کا جائزہ لینے اور درپیش انتخابات میں زیادہ سے زیادہ عوام کی شرکت کی ضرورت پر تاکید فرمائی- رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے بیشتر حصے کو اقتصادی ترجیحات اور مسائل کے جائزے سے مختص کیا اور  پیداواری شعبے کو پہنچنے والے نقصانات اور وسائل کے انتظام کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا-رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں ایک متحرک معیشت میں ترقی اور پیداوار کے بنیادی اشاریوں کا ذکر کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایران میں پائی جانی والی صلاحیتوں پر بھی بہت زیادہ تاکید فرمائی- رہبر انقلاب اسلامی نے مشہد کے عظیم عوامی اجتماع سے خطاب میں ایک متحرک  اور پائیدار معیشت کے حصول سے متعلق ان لازمی باتوں کو بیان فرمایا  کہ جن پر توجہ ایران کی معیشت کو متحرک اور پائیدار معیشت کی جانب لے جانے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں-

 رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں  فرمایا  کہ  ایران کے پاس  بہت زیادہ پیداواری وسائل اور زیر زمین  ذخائر موجود ہیں جو پیداوار کے شعبے میں بنیادی اہمیت  کے حامل ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ایران ایک غنی اور دولت سے مالا مال ملک ہے- ایران ایک ایسا ملک ہے جو  سرمائے، افرادی قوت اور پیداواری ذرائع، مثال کے طور پر تیل اور گیس اور  خام مال اور کانوں کے اعتبار سے مضبوط ہے- ایران تیل اور گیس کے لحاظ سے انتہائی بلندی پر کھڑا ہے - ایک متحرک اور پیداواری معیشت کے لئے ماہر افرادی قوت یا لیبر فورس کا ہونا بھی انتہائی امیدافزا اور بھروسہ مند ہوتا ہے- جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ایران کی آبادی میں پندرہ سے چالیس سال تک کے تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد ایسے جوان ہیں جو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اورپیداواری معیشت کی صلاحیت و قابلیت رکھتے ہیں اور یہ  معیشت کی رونق اور پیداوار کے لئے ایک عظیم سرمایہ اور ثروت ہے-

 ان ہی اعداد و شمار سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے فارغ التحصیل جوانوں کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے اور پچاس لاکھ سے زائد جوان یونیورسٹیوں میں حصول علم میں مشغول ہیں- لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ پیداوار اور معیشت میں ترقی کے لئے ان افرادی قوت سے کس طرح سے استفادہ کیا جائے- اور یہ وہی بنیادی مسئلہ ہے کہ جس کا جائزہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس بیان میں لیا اور ساتھ ہی ان مسائل کا حل بھی پیش کیا - شاید بعض افراد یہ خیال کریں کہ ایران نے جدید ٹکنالوجیز میں اچھی پیشرفت نہیں کی ہے  لیکن ایران نے اس شعبے میں گذشتہ برسوں کے دوران یہ ثابت کردکھایا ہے کہ مقامی دانشوروں اور سائنسدانوں کے ذریعے ، جدید اور پیچیدہ ٹکنالوجیز کو حاصل کرنے کی تخلیقی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ ایران نے یورینیم کی افزودگی سمیت پرامن ایٹمی سرگرمیاں انجام دی ہیں اور تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لئے ایندھن فراہم کرنے کی غرض سے ساڑھے تین فیصد سے بڑھاکر بیس فیصد تک  یورینیم افزودہ کیا ہے تاکہ لاعلاج بیماریوں کے علاج کی دوائیں بناسکے اور یہ ایک عظیم کامیابی ہے جو جدید ٹکنالوجیز کے میدان میں، مقامی سائندانوں نے حاصل کی ہے-

البتہ یہ بات بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ کہ اس راستے کو طے کرنا بہت سخت و دشوار ہے لیکن بامقصد پروگرامنگ کے ذریعے کوئی بھی مقصد حاصل کیا جاسکتاہے- اگرچہ گذشتہ برسوں کے دوران بہت سے عظیم کارنامے انجام پائے ہیں لیکن ابھی مطلوبہ اہداف تک رسائی کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے- اس مسئلے کی اہمیت اس وقت زیادہ بڑھ جائے گی جب ہم ملت ایران کے دشمنوں کے اہداف پر توجہ  دیں گے کہ جنہوں نے دو مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے- اور ان دو مسائل میں سے ایک، بائیکاٹ اور پابندیوں کے ہتھکنڈے کے ذریعے معاشی دباؤ قائم کرنا ہے چنانچہ ایٹمی معاہدے کے باجود یہ ہتھکنڈے جاری ہیں اور دشمن کے میز پر یہ آپشن ابھی بھی موجود ہے اور دوسرا مسئلہ ایران کے عوام کو انقلاب سے بدظن کرنا ہے اور خاص طور پر انہیں انتخابات میں شرکت سے روکنا ہے- اور یہ مسئلہ ایران میں عنقریب ہی ہونے والے صدارتی اور بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر ایک بار پھر دشمنوں کے ایجنڈے میں قرار پایا ہے- بہرصورت دشمنوں کی تمام تر سازشوں اور ہتھکنڈوں کے باوجود ایرانی قوم نے گذشتہ تمام برسوں میں اور جو سال گذرا ہے ایک بار پھر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ دینی و انقلابی اقدار کا پوری قوت کے ساتھ  تحفظ کر رہے ہیں اور رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر کے مطابق ایرانی عوام نے دینی و انقلابی اقدار کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے-