مغرب، انسانی حقوق کا جھوٹا دعویدار
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایک قرارداد پاس کرکے مختلف ملکوں منجملہ ایران کے لئے انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹروں کی مدت میں ایک سال کا اضافہ کردیا ہے۔
ایران کے تعلق سے یہ قرارداد بہت کم مارجن سے یعنی بائیس مثبت ووٹوں کے مقابلے میں پچیس منفی اور نیوٹرل ووٹوں سے منظور ہوئي۔ امریکہ برطانیہ اور بعض عرب ملکوں نیز افریقی ملکوں نے جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بوٹسوانا اور روانڈا شامل ہیں، ایران کے خلاف قرارداد کو مثبت ووٹ دئے، جبکہ انسانی حقوق کے سلسلے میں ان ملکوں کا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں ہے۔ البتہ انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹر کو سپرد کی گئی ذمہ داریوں میں ماضی کی نسبت کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بے گناہوں کے قاتلوں اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو موت کی سزا دئےجانے پر تنقید، قیدیوں کو جسمانی ایذائیں پہنچانے کے الزامات، شہری حقوق محدود کرنے کے الزامات اور آزادی بیان و میڈیا کے آزاد نہ ہونے کے الزامات ایسے مسائل ہیں جو انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹروں کی طرف سے ایران پر لگائے جاتے ہیں۔ الزامات کی ان فہرست میں اور بھی بہت سے الزامات ہیں جیسے خواتین، قومی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک بھی شامل ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران ایسےعالم میں انسانی حقوق کے تعلق سے ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ مغرب نے انسانی حقوق کے مسئلے کو سیاسی اہداف حاصل کرنے ہتھکنڈا بنا رکھا ہے۔
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ایران کو رپورٹر یا انسانی حقوق کے بارے میں رپورٹ پیش کئےجانے سے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ ایران کے لئے انسانی حقوق کا رپورٹر معین کیا جانا منطقی دلائل کی بنا پر نہیں ہے۔ کسی ملک کے بارے میں جھوٹی تشویشیں پیدا کرنا جرم شمار ہوتا ہے جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ایک مثال ہے اور یہ وہی کام ہے جو انسانی حقوق کونسل نے ایران کے لئے انسانی حقوق کے بارے میں خصوصی رپورٹر معین کرکے کیا ہے۔ ایسے ثبوت و شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق پر تشویش کا اظہار کرنا ایران کے خلاف یکطرفہ اقدامات کا جواز پیش کرنے کا بہانہ ہے۔اس میں کسی طرح کا شک نہیں کہ انسانی حقوق میں بہتری لانا ایک اہم مسئلہ ہے لیکن جس چیز پر تنقید اور بحث ہوسکتی ہے وہ یہ ہےکہ کونسی حکومتیں انسانی حقوق کا دفاع کرنے کی دعویدار ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت لندن کے نمائندے نے اس نشست میں دعوی کیا تھا کہ لندن کو ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹر کا کام ان لوگوں کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے جو لوگ انسانی حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں جبکہ تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ نے بہت سے ملکوں کے خلاف انسانیت سوز اقدامات انجام دئے ہیں جن میں ایران بھی شامل ہے۔برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ایسی چالیں چلیں کہ ایران میں مصنوعی قحط پڑگیا اور برطانیہ نے انیس سو ترپن میں حکومت کو گرانے میں براہ راست شرکت کی تھی۔
برطانیہ نے عراق کے خونخوار ڈکٹیٹر کو کیمیاوی ہتھیار بھی دئے تھے جن سے صدام نے ایران پرمسلط کردہ جنگ میں حملے کئے تھے۔ اس وقت بھی برطانیہ کے ممنوعہ فاسفورس کے گولے یمن کی جنگ میں سعودی مجرموں کے پاس ہیں جن سے وہ یمن کے نہتے عوام پر بمباری کرتے ہیں۔ برطانیہ فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے والے صیہونی حکومت کا اہم حامی ہے۔ان حقائق کے پیش نظر ایران کے خلاف انسانی حقوق کی قرارداد کا منظور کیا جانا اور برطانیہ کی طرف سے اس کی حمایت کرنے کا انسانی حقوق کے حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایران کے خلاف منظور کی جانے والی انسانی حقوق کی قرارداد پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران جیسے خود مختار ملکوں کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور علاقے نیز دنیا کے مختلف علاقوں میں وحشیانہ قتلعام پر پردہ ڈالنا ایران کے خلاف انسانی حقوق کی قرارداد کے اہداف ہیں۔