شام: مخالفین سیاسی راہ حل کے خلاف
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i276750-شام_مخالفین_سیاسی_راہ_حل_کے_خلاف
شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے بحران شام کے حل کے لئے ایران، ترکی اور روس کی کوششوں کے جاری رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوششیں شام کا بحران حل ہونے تک جاری رہنی چاہیے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۲۵, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۳ Asia/Tehran
  • شام: مخالفین سیاسی راہ حل کے خلاف

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے بحران شام کے حل کے لئے ایران، ترکی اور روس کی کوششوں کے جاری رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوششیں شام کا بحران حل ہونے تک جاری رہنی چاہیے۔

اسٹیفن دی میستورا نے افسوس کا اظہار کیا کہ جینوا مذاکرات کے موقع پر شام میں جنگ شروع ہوگئی اور ضمنی طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ جینوا مذاکرات ناساز گار حالات اور ابہامات کا شکار ہوگئے ہیں۔ شام کے بحران کے بارے میں جینوا کانفرنس جمعرات تیئیس مارچ سے شروع ہوئی ہے۔ ایسے عالم میں جینوا پانچ مذاکرات کا شروع ہونا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ اقوام متحدہ ان مذاکرات سے مایوس ہے۔ جینوا پانچ مذاکرات کے موقع پر شام میں دہشتگردوں نے اپنی کاروائیاں تیز کردی ہیں اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جینوا مذاکرات کا انتظام  کرنے والوں نے ان کے ثمر بخش ہونے کا کوئی ماحول نہیں بنایا ہے، مذاکرات کے شروع ہوتے ہی شام میں جھڑپوں میں شدت آنے سے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ کے مذاکرات میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی متاثر ہوں گی۔ آستانہ مذاکرات میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور اس میں استحکام لانے پر اتفاق ہوا تھا۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ شام کا بحران حل کرنے کےلئے عالمی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی شام کے مخالفین کی کوششیں اور ان کا آستانہ تین مذاکرات میں شرکت نہ کرنا کوئی شک باقی نہیں چھوڑتا کہ بحران شام کو حل کرنے کے لئے عالمی کوششیں مخالفین کی نظر میں بے وقعت ہیں اور ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ شام کے بارے میں عالمی نشستوں میں مراعات اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالے جانے کے خواہاں ہیں۔ ایسی فضا میں مغربی دارالحکومتوں میں شام کے بارے میں اجلاس ہونا جو کہ شام کے دہشتگردوں کے حامی تسلیم کئے جاتے ہیں ان سے عملی طور پر دہشتگردوں اور ان کے حامیوں کو اپنے مذموم اھداف آگے بڑھانے کا موقع ملتا ہے اسی وجہ سے اب تک اس طرح کی نشستوں سے شام کے بحران کو حل کرنے کے بارے میں کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے اور عملی طور پر یہ ناکام نشستیں رہی ہیں۔

اس بنا پر جن حالات میں جینوا پانچ مذاکرات شروع ہوئے ہیں اور مغربی حکومتوں نے جن کے بارے میں بے پناہ  پروپگینڈا کیا ہے، شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے آستانہ مذاکرات کے سائے میں مذاکرات جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آستانہ مذاکرات جن میں ایران اور روس نے اہم کردار ادا کیا ہے اورکسی حد تک ترکی نے ان کا ساتھ دیا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی ان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے ان سے پتہ چلتا ہےکہ عالمی برادری اس طرح کے مذاکرات کو پسند کرتی ہے۔ آستانہ مذاکرات جن کا مقصد شام میں جنگ بندی کو استحکام بخشنا اور سنجیدہ مذاکرات اور پائدار امن قائم کرنے کی زمین ہموار کرنا تھا انہیں ہم شام کے بحران کو حل کرنے کا سنگ بنیاد کھ سکتے ہیں۔ شام کے حقائق کی شناخت، شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا احترام ، شام کے عوام کے حق خود ارادیت کا احترام منجملہ صدر بشار اسد کے سیاسی مستقبل کو معین کرنا اور دہشتگردی کی مکمل نابودی، شام کے بحران کے حل کے لئے بے بدیل تجویز ہے۔ اسی وجہ سے اس تجویز کے دائرہ کار میں مذاکرات سے شام کے بحران کے حل کی امید پیدا ہوتی ہے اور اب اہل عالم نے ایسی ہی راہ حل پر آنکھیں لگا رکھی ہیں تا کہ یہ دیکھ سکیں کہ شام کا بحران جو چھے برس سے جاری ہے کس طرح سے حل کیا جاسکتا ہے۔ دی میستورا کی درخواست اسی تناظر میں قابل غور ہے۔