امریکہ، عراق میں قتل عام کا ذمہ دار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i276880-امریکہ_عراق_میں_قتل_عام_کا_ذمہ_دار
مغربی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے عراق کے شمالی شہر موصل میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جن میں دسیوں عراق شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۰ Asia/Tehran
  • امریکہ، عراق میں قتل عام کا ذمہ دار

مغربی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے عراق کے شمالی شہر موصل میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جن میں دسیوں عراق شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی کمان نے اعلان کیا ہے کہ مغربی موصل پر امریکی جنگی طیاروں کی بمباری میں دسیوں عام شہری مارے گئے ہیں جبکہ بہت سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ادھر امریکی فوجی کمان نے دوسروں پر الزامات لگاتے ہوئے عراق میں اپنے جرائم کے بارے میں دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج نے مغربی موصل پر عراقی فوج کی درخواست پر یہ حملے کئے تھے۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام میں جان بحق ہوے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔تازہ رپورٹوں کے مطابق مغربی موصل کے ایک رہائیشی علاقے پر امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری میں دو سو ترسٹھ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔موصل کے شہریوں کے مطابق امریکی طیاروں نے تیرہ اور سترہ مارچ کو اس شہر کے مغربی علاقوں کے محلوں پر حملے کئے تھے۔

عراق کے مختلف علاقوں پر امریکہ کے جنگی طیاروں کےحملوں میں اب تک دسیوں ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ امریکی فوج کی رپورٹ میں ان کو حملوں میں ہونے والی ناگزیر ہلاکتیں قراردیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے دو مہینے قبل بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ گذشتہ برس دہشتگردی کے خلاف اتحاد کے غلطی سے ہونے والی بمباری میں شام و عراق میں تقریبا ایک سو عام شہری جان بحق ہوئے ہیں۔ان واقعات کے بارے میں روس کی وزارت دفاع نے رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی سرکردگی میں دہشتگردی کے خلاف عالمی اتحاد کے حملوں میں تقریبا ایک ہزار افراد جان بحق ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ ثبوت و شواہد کے پیش نظر عراق و شام میں امریکہ کے جرائم کو اس کے  مذموم اور مشکوک اھداف و مقاصد کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ عراق کے حالات اور امریکہ کے اقدامات سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکہ دہشتگردوں کو تقویت پہنچانے اور انہیں موقع فراہم کرنے کے علاوہ اور کوئی ھدف نہیں رکھتا۔ امریکہ مختلف ملکوں میں انسانی خطا، غلطی سے بمباری ہونے جیسے بہانوں سے اپنے جرائم کا جواز پیش کرتا ہے، یا اپنے مجرمانہ اقدامات کا یہ بہانہ بناتا ہےکہ میزبان حکومت کی درخواست پر حملے کئے گئے تھے۔ عراق میں بھی وہ اسی طرح سے اپنے جرائم کا جواز پیش کررہا ہے۔ سارے ثبوت و شواہد اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ  امریکہ کے تمام اقدامات عمدی اور دہشتگردوں سے ہماہنگی کے ساتھ عام شہریوں کے قتل عام کی غرض سے انجام دئے گئے ہیں۔

بنیادی طور سے امریکی فوجیوں کے پاس جو پیشرفتہ آلات و جنگی ساز  وسامان ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں کافی تشہیرات بھی کی ہیں، رہائیشی علاقوں کو دہشتگردوں کے علاقوں سے الگ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، بہرحال اگر امریکہ ان مقامات کو پہنچاننے میں ناکام رہا ہے تو واقعا یہ اس کی ناتوانی ہے اور یہ فوجی لحاظ سے بدیھی امور میں ناکامی شمار ہوتی ہے اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں امریکہ کی یہ بڑی کمزوری شمار ہوگی۔بے شک ایسی کمزوریاں علاقے کے عوام کے لئے نہایت ہی مہلک ثابت ہورہی ہیں۔ واضح رہے امریکہ نے طلبا پر بمباری کرکے دسیوں طلباء کو شہید کیا تھا، کرکوک کے داقوق علاقے میں ایک شادی کی تقریب پر حملہ کرکے خوشی کی اس تقریب کو سوگ کے اجتماع میں تبدیل کردیا تھا۔ اس حملے میں پچیس عام شہری جان بحق ہوئے تھے جن میں  پندرہ خواتین بھی شامل تھیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ کی سرکردگی میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والے اتحاد کے یہ کرتوت ہیں جن پر اقوام متحدہ نے شرمناک خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

امریکہ کی زیر سربراہی داعش مخالف نام نہاد اتحاد عملی طور سےعراق و شام میں عوام اور فوج کے قتل عام کی مشین بن چکا ہے اور اس اتحاد کے اقدامات سے دہشتگردی سے حقیقی مقابلے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔عراق میں عوامی فورسز کی کامیابیاں اور دہشتگردوں سے متعدد  علاقوں کو پاک کرانے سے دہشتگردوں کے حامیوں کو شدید شرمندگی اٹھانی پڑی رہی ہے اور وہ اپنے کرائے کے ایجنٹوں کے ساتھ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اسی وجہ سے تکفیری دہشتگرد اور امریکہ، عوام کو نشانہ بنانا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔