یمن کے خلاف سازشیں ناکام
یمن میں تحریک انصاراللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یمن پر جارحیت کے ماسٹر مائنڈ امریکہ اور صیہونی حکومت ہیں اور ان کا آلہ کار سعودی عرب ہے۔
عبدالمک بدرالدین الحوثی نے ہفتے کی شام یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کو دو برس گذرنے کے موقع پر کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت اور بعض ممالک نے اسلامی امۃ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن امت مسلمہ کو نابود کرنا چاہتا ہے۔ الحوثی نے کہا کہ امریکہ نے علاقے کی نابودی کے لئے سازشیں تیار کررکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تل ابیب اور ابو ظبی کے درمیاں ہماہنگی پائی جاتی ہے۔ تحریک انصاراللہ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ یمن میں سعودی عرب اور امارات کی موجودگی صیہونی مفادات کی راہ میں ہے۔ واضح رہے سعودی عرب نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی حمایت سے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے اپنے پٹھو مفرور صدرعبد ربہ منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے یمن پر حملے شروع کئے تھے۔ آل سعود اور اس کے اتحادیوں کے ان حملوں میں اب تک ہزاروں عام شہری شہید ہوچکے ہیں۔
یمن کے نہتے عوام صرف سعودی جارحین سے ہی نہیں لڑرہے ہیں بلکہ وہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ اھداف کا بھی مقابلہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکرہے کہ صیہونی حکومت نے حالیہ برسوں میں بحیرہ احمرمیں اور باب المندب کے اطراف میں کچھ جزیروں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور یہ جزائر صومالیہ اور اریٹریا نے اسے دئے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ علاقے کے عرب حکام بھی صیہونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات سے مکمل طرح سے ہماہنگ ہیں اور باب المندب پرقبضہ کرنے کےلئے صیہونی حکومت کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔
اسٹراٹیجیک آبی راستہ باب المندب یمن، جیبوتی اور اریٹریا کے درمیاں واقع ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس وجہ سے یمن میں انصاراللہ کے برسر اقتدار آنے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ تحریک انصاراللہ باب المندب پر کنٹرول حاصل کرلے گی۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ متحدہ عرب امارات بھی جویمن کے نہتے عوام کے خلاف سعودی اتحاد میں شامل ہے خلیج عدن میں جزیرہ سقطرا اور میون پر قبضہ کرنے کےدرپئے ہے۔ اس غرض سے امارات نے یمن کے سابق مفرور صدر کے ساتھ ان جزیروں کو ننانوے برسوں کے لئے لیز پر لے لیا تھا لیکن یمنی قوم نے اس معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔یاد رہے باب المندب پر تحریک انصاراللہ کو قبضہ کرنے سے روکنے کے لئے امریکہ، برطانیہ، صیہونی حکومت اور آل سعود نے یمن کے نہتے عوام پر جنگ چھیڑ رکھی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ باب المندب بھی اسٹراٹیجیک آبنائے ہرمز کی طرح ایسے ملک کے زیر کنٹرول آجائے جس کی اہم ترین خصوصیت خود مختاری اور مشرق وسطی کے امور پر مغرب کے تسلط کی مخالفت ہے۔ بہرحال تحریک انصاراللہ کے سکریٹری جنرل کے بیانات سے یمن کے خلاف جاری آل سعود کی جارحیت کے اھداف کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ ان حالات میں انصاراللہ کی جانب سے یمن کے خلاف سازشوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور یمن کے عوام کی دلیرانہ استقامت سے اس کے دشمنوں کی سازشیں ناکام ہوگئی ہیں اور یمن کی قوم کے دشمن اپنے ہی بنائے ہوئے دلدل میں زیادہ سے زیادہ دھنستے چلے جارہے ہیں۔