عراقی رضا کار فورس کامیابی کا راز
عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے کہا ہے کہ عراق کو تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور عراقی عوام اس موقع پر زیادہ سے زیادہ متحد ہیں۔
حیدرالعبادی عراقی فوج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ انہوں نے عوامی رضا کار فورس کے کمانڈروں سے ملاقات میں کہا کہ بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے فتووں کی وجہ سے ایسی قیاس آرائیاں اور نظریات باطل ہوگئے جن میں کہا جارہا تھا کہ عراق کی تقسیم ہونے والی ہے اور داعش کو نابود کرنے کے لئے جنگ طول کھینچے گی۔
حیدرالعبادی نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف اب تک جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ عوامی رضا کار فورس اور مسلح افواج کے تعاون اور ان کی جاں فشانیوں کی مرہون منت ہیں۔
عراق جون دوہزار چودہ سے داعشی دہشتگردی کا مقابلہ کررہا ہے۔ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش شمالی سرحدوں سے عراق میں داخل ہوا تھا اور اس نے عراق کے بعض شمالی، مغربی اور مشرقی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ عراق میں داعشی بعثی فتنے کا مقصد بغداد اور اربیل کو فتح کرنا تھا۔ داعش نے اپنی جارحیت کے ابتدائی دنوں میں بغداد اور اربیل کو فتح کرنے کا راستہ ہموار پایا تھا لیکن عراق کے مراجع کرام اور عوام کی ہوشیاری سے داعش کے مقابل متحدہ صفوف وجود میں آگئیں اور بغداد کی سمت اس گروہ کا راستہ بند کردیا گیا۔ بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی نے دہشتگردی اور امریکہ کی سازشوں کے مطابق عراق کی تقسیم کے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ فوج کا ساتھ دیتے ہوئے داعش کے خلاف ڈٹ جائیں۔ عراق کے سب عوام نے، جن میں شیعہ، سنی، ترکمن اور قبائل شامل ہیں، آیت اللہ العظمی سیستانی کی آواز پر لبیک کہا اور فوج کے ساتھ داعش کے خلاف لڑنے کو تیار ہوگئے۔
اس طرح عوامی رضا کار فورس آیت اللہ سیستانی کے حکم سے اسی وقت تشکیل پائی جب دس جون دوہزار چودہ کو موصل سقوط کرگیا تھا اور اس پر داعش کا قبضہ ہوگیا تھا۔ عراق کی رضاکار فورس ایک عوامی فورس ہے اس میں عراق کے مختلف گروہوں کے افراد بالخصوص نوجوان شامل ہیں جنہوں نے فوج کی طاقت کو دوگنا کردیا ہے۔ یاد رہے کہ اس فورس نے عراق کے اسٹریٹیجک علاقوں کو داعش سے آزاد کرانے میں نہایت اہم رول ادا کیا ہے۔
عراقی عوام اور فوج کا مل کر داعش کے خلاف لڑنا مفید رہا ہے، قومی مفادات اور فرقہ واریت سے دوری اختیار کرکے ہی عوام ایک پرچم تلے جمع ہوسکے ہیں۔ سنی علاقوں منجملہ فلوجہ کو آزاد کرانے میں عوام کی بھرپور شرکت سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ مسلمان داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے میں قوم پرستی سے ماورا ہوکر کام کررہے ہیں۔ عراق کی ارضی سالمیت اور متحدہ عراق کا دفاع عوامی رضا کار فورس کا بنیادی اصول ہے۔ عراق ایک خود مختار وآزاد ملک ہے، اس کی اپنی حکومت ہے اور تمام قومیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں نیز اپنے قومی مفادات کو گروہی مفادات پر ترجیح دیتی ہیں۔ آج عراق کی عوامی رضا کار فورس کو تشکیل ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس فورس نے داعش کے دانت کھٹے کردئے ہیں۔
صوبہ الانبار، صلاح الدین اور صوبہ دیالہ سے داعش کی پسپائی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی رضا کار فورس دہشتگردی سے جنگ میں نہایت کارآمد فورس ہے۔ عوام، فوج اور حکومت کے مشترکہ تعاون سے داعش دہشتگرد گروہ بری طرح کمزور پڑگیا ہے اور صوبہ نینوا میں محصور ہوکر رہ گیا ہے۔ عراق کے اعلی حکام حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنے مذاکرات اور تقریروں میں عوامی رضا کارفورس کے کردار کو مؤثر قراردیتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ داعش کی نابودی کے لئے فوج کے ساتھ عوامی رضا کار فورس کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایسے حالات میں حیدر العبادی نے عوامی رضا کار فورس، فوج اور حکومت کے اتحاد سے دوہزار سترہ کو داعش کی نابودی کا سال قراردیا ہے۔