افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانا امریکی پالیسی
افغانستان کی پارلیمنٹ کے سربراہ عبدالرؤف ابراہیمی نے اعلان کیا ہے کہ عنقریب امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو کے اعلی فوجی اور سیاسی حکام کا ایک وفد افغانستان کا دورہ کرکے افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے اہم فیصلے کرے گا۔
مغرب کے اس اعلی رتبہ وفد کے دورہ افغانستان کی خبر افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر کے اس مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے کہ افغانستان کے لئے مزید پانچ ہزار فوجی بھیجے جائیں۔ نیٹو کے فوجی کمانڈر جان نیکلسن نے دعوی کیا ہے کہ پانچ ہزار فوجی افغانستان میں جنگ سے پیدا ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ نیکلسن نے کہا ہے کہ رائے عامہ یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان کے لئے ہزاروں فوجی نہ بھیج کر افغانستان کے حالات کو نظر انداز کررہے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ نیکلسن افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے کٹر حامی ہیں اور ان ہی کی کوششوں سے امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو کی ایک اعلی رتبہ کمیٹی افغانستان کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے افغانستان آنے والی ہے۔ بلاشک اس کمیٹی کا بنیادی ترین فیصلہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بارے میں ہوگا اور یہ نیکلسن کے نظریات کی تائید ہوگی۔ واضح رہے کہ افغانستان کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں ابھی واضح نہیں ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے امریکی فوج کے جرنیل منجملہ نیکلسن ٹرمپ کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوکر نیٹو اور پینٹاگون کی پالیسیوں کو اپنے نظریات کے مطابق موڑنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی فوج نے بتدریج افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا کام شروع کردیا ہے۔ یہاں پر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے سے امن قائم ہوجائے گا؟ کیا افغانستان میں سکیورٹی کے مسائل کی اصل وجہ فوجیوں کی تعداد میں کمی ہے؟ اس امر کے پیش نظر کہ دوہزار چودہ سے قبل افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی تعینات تھے تو کیا انہوں نے افغانستان میں امن قائم کردیا تھا؟ اس حقیقت کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں کمی مشکل کا سبب نہیں ہے بلکہ بدامنی کا جاری رہنا امریکہ کی پالیسیوں اور غیر ملکی افواج کی موجودگی سے پڑنے والے منفی اثرات کی بنا پر ہے۔ امریکہ کی پالیسی یہ نہیں ہے کہ وہ افغانستان اور دیگر ملکوں میں دہشتگردی سے مقابلہ کرے بلکہ اس نے ہمیشہ بحرانوں کو اپنے مفادات کے مطابق موڑنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ مختلف ناموں کے دہشتگرد اور انتہا پسند گروہوں سے اپنے مذموم مفادات کے لئے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ اور نیٹو نے افغانستان پر اپنے سولہ سالہ قبضے کے دوران کبھی بھی منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ کو روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ منشیات دہشتگردوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ بیرونی افواج بذات خود افغانستان میں بدامنی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے امریکی اور نیٹو کے فوجیوں کی کارکردگی پر شدید تنقید کی تھی اور ان کے کردار کو تخریبی کردار قراردیا تھا۔ بیرونی افواج نہ صرف براہ راست طریقے سے افغان شہریوں کے قتل عام میں ملوث تھیں بلکہ دہشتگرد اور انتہا پسند گروہوں نے ہتھیار رکھنے اور امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے یہ شرط لگائی تھی کہ افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج نکل جائیں۔ اس امر کے پیش نظر اب جبکہ امریکہ اورنیٹو افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں تو نتیجے میں افغانستان میں امن کے رہے سہے امکانات بھی ختم ہوجائیں گے۔ چونکہ دہشتگرد اور انتہا پسند گروہ مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور حلقوں کے ساتھ ہم آہنگی سے عمل کرتے ہیں لہذا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ا فغانستان میں بحران جاری رکھنے کے لئے ان کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ جس نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کے دعوے کئے تھے اسے افغانستان میں داعش دہشتگرد گروہ کے سامنے آنے کے بعد اچھا بہانہ مل گیا ہے تا کہ وہ دوبارہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھاسکے۔ اس وجہ سے افغانستان میں تشدد کے اضافے کی بنا پر امریکہ اور نیٹو اسے اپنی فوجی موجودگی کا بہانہ بناتے ہیں اور انہوں نے دیگر ملکوں جیسے مرکزی ا یشیا اور قفقاز کی طرف دہشتگردی پھیلانے کےلئے افغانستان کو اپنا مرکز بنا لیاہے۔