بی جے پی اور نریندر مودی اپنے وعدوں پر عمل کریں
ہندوستان کی ریاست اترپردیش اور منی پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالیہ کامیابیوں سے انتہا پسند ہندوؤں کو دوبارہ تقویت حاصل ہوگئی ہے اور وہ ایک بار پھر ہندوستانی مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔
ہندوستان کی ریاست اترپردیش اور منی پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالیہ کامیابیوں سے انتہا پسند ہندوؤں کو دوبارہ تقویت حاصل ہوگئی ہے اور وہ ایک بار پھر ہندوستانی مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔ واضح رہے ہندوستان میں مخالف پارٹیوں کا کہنا ہےکہ حالیہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔
فتح بہادر سنگھ کو اتر پردیشن کی صوبائی اسمبلی کا عبوری اسپیکر بنایا گیا ہے جبکہ یوگی آدتیاناتھ صوبے کے وزیر اعلی بنائے گئے ہیں۔ یہ دونوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کٹر ہندو لیڈر ہیں۔ان کے برسر اقتدار آنے کے بعد اترپردیش میں جہاں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے فرقہ واریت کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔
بہت کم دنوں میں اتراپردیش کی بی جے پی سرکار کے اقدامات اور فیصلے بالخصوص وزیر اعلی یوگی آدتیاناتھ کے فیصلوں سے جن میں بوچڑخانوں کا بند کرنا اور انیس سو بانوے میں شہید ہونے والی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر بنانے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہےکہ انتہا پسند ہندو اترپردیش میں حالیہ کامیابیوں کو مسلمانوں پر نئے سرے سے حملے کرنے کا بہترین موقع سمجھ رہے ہیں۔ ریاست گجرات میں مسلمانوں کے دیہی علاقوں پر پانچ ہزار سے زائد انتہا پسند ہندووں کے حملوں میں کئی افراد مارے گئے تھے اور پچاس گھر تباہ ہوئے تھے یہ حملے اسی تناظر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
گجرات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی وزارت اعلی کے زمانے میں ہندوستان انتھا پسند ہندووں کے ہاتھوں مسلمانوں کے نہایت ہی گھناونے قتل عام کا شاہد رہا ہے۔اور اس ریاست میں دوبارہ ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔اسی وجہ سے مختلف حلقوں نے انتہا پسند ہندوؤں کے تفرقہ انگیز اقدامات کی بابت خبردار کیا ہے۔ اس کے باوجود ان حلقوں کا کہنا ہے اتر پردیش اور منی پور میں بی جے پی کی حالیہ کامیابی پورے ہندوستان میں اس کے نیشنل پارٹی کی حیثیت سے اسکی پوزیشن کے مستحکم ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ بی جے پی کی کارکردگی پر ہندوستانی عوام کی توجہ ہے اور بلاشک بی جے پی کی طرف سے انتہا پسند ہندو گروہوں کا کنٹرول نہ کیا جانا اور اقیلتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف فرقہ واریت اور خونریز تشدد کو ہوا دینا آئندہ انتخابات میں اسکی ساکھ کے خراب ہونے کا سبب بنے گا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام شہریوں کے برابر ہونے اور سب کے لئے عدل وانصاف اور سکیورٹی فراہم کرنے کے نعرے لگائے ہیں جس کی رو سے ہندوستانی عوام ان سے اور بی جے پی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں گے اور اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ انتہا پسند ہندو موقع سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان کی سکیورٹی اور اتحاد کو خطرے میں ڈال سکیں گے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ اترپردیش کی حکومت میں بی جے پی کے انتہا پسند حلقے تکمیل پارہے ہیں اور اس سے صوبے کے آئندہ حالات کے بارے میں تشویش پیدا ہوجاتی ہے۔ فتح بہادر سنگھ کے والد جو اترپردیش کے سابق وزیر اعلی رہ چکے ہیں ان کے زمانے میں بابری مسجد کو لے کر ہندو مسلم کشیدگی کافی حد تک پھیل گئی تھی جس کے نتیجے میں ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام بھی ہوا تھا ۔قابل ذکرہے یوپی میں بی جے پی کی حکومت کے قائم ہونے کے بعد انتہا پسند ہندووں نے فورا اعلان کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر بنائیں گے۔ واضح رہے بابری مسجد رام مندر ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کےدرمیان اہم ترین اختلافی مسئلہ ہے اور رام مندر بنائے جانے کی صورت میں ایک بار پھر اختلافات کی چنگاریاں شعلوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔