علاقے میں امریکی اور صیہونی سازشیں
ان دنوں امریکہ میں صیہونی لابی آیپیک کی نشست کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف پروپگینڈا بھی تیز ہو گیا ہے۔
ان دنوں امریکہ میں صیہونی لابی آیپیک کی نشست کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف پروپگینڈا بھی تیز ہو گیا ہے۔ صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو نے پیر کوبیت المقدس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے آپیپک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شراکت ایران کے تخریبی اقدامات کا مقابلہ کرنے کے معنی میں ہے۔ ادھر امریکہ کے نائب صدر مایک پنس نے آئپیک کے سالانہ اجلاس میں کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کی سکیورٹی کے سلسلے میں کئے گئے وعدوں پر قائم ہیں۔نیتن یاھو نے اپنی لفاظی کا ایک بڑا حصہ ایران سے مخصوص کررکھا تھا، ادھر آل خلیفہ کی حکومت نے ایران سے متعلق ایک نام نہاد نیٹ ورک کو پکڑنے کا دعوی کیا ہے، آل خلیفہ نے الزام لگایا ہے کہ اس نام نہاد نیٹ ورک کے افراد اہم شخصیتوں اور سکیورٹی فورسز نیز حساس مراکز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
ان اقدامات کا ھدف رائے عامہ کو فریب دینا اور حقیقت سے فرار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی حمایت اور اپنے شرکا کی یمن کے بے گناہ اور نہتے عوام پر آئے دن کی مجرمانہ جارحیت سے مشرق وسطی میں بدامنی میں اضافہ ہوگیا ہے۔اسرائیل نے ہمیشہ سے پس پردہ رہ کر علاقے میں بحران پیدا کئے ہیں لیکن بعض عرب حکام نے بھی حقائق پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔بحرین جو کہ ایک ملین کی آبادی کا ایک چھوٹا سا ملک ہے اور جو متعدد مسائل کا شکار بھی ہے وہ دوسروں پر الزام لگاتا ہے اور ایران کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹہراتا ہے۔ لیکن علاقے کی رائے عامہ جانتی ہے بحرین کے حکام کے اقدامات امریکہ اور نیتن یاھو کے اشاروں پر انجام پارہے ہیں۔ علاقے کے بعض ظالم حکام صیہونی حکومت کے اھداف کے راستے پر چل رہے ہیں اور انہوں نے ایسی حکومت کی سمت دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے کہ جو علاقے میں تمام اختلافات اور فتنوں کا سبب ہے۔ ان تمام اقدامات کا ھدف ایران پر دباؤ ڈالنا ہے۔ سعودی عرب اور بحرین کے حکام یہ تصورکرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات ان کے فائدے میں ہیں لیکن اسرائیل کی نگاہ میں وہ ان اقدامات سے دو نشانے لگارہا ہے۔ صیہونی حکومت علاقے میں اختلافات کو ہوا دے رہی ہے جو آخرالامر اسی کے فائدے میں ہے۔بہرحال صیہونی حکومت علاقے میں طرح طرح کے بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے تا کہ خود اس پر دباؤ کم ہوجائے اور لوگ اسے فراموش کردیں۔سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک دراصل امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ سازش کا نتیجہ ہیں اور اس مرحلے میں بحرین سمیت عرب ملکوں میں ایران کی مداخلت کے الزام لگا کر اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ ایرانوفوبیا میں ٹھیک اس موقع پرشدت آئی ہے جبکہ آئندہ دنوں میں ایران اور خلیج فارس کے عرب ملکوں کے درمیان گفتگو شروع ہونے والی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کا ھدف علاقے کے ملکوں سے ایران کے تعلقات میں خلل ڈالنا ہے۔واشنگٹن اور تل ابیب نے بعض علاقائی ملکوں کو اپنی چالوں میں پھنسا کر علاقے کی سکیورٹی اور علاقائی ملکوں کے اتحاد کو نشانہ بنالیا ہے۔ ان ملکوں کی دولت عراق،شام اور یمن میں جنگوں اور دہشتگردوں کی مالی حمایت کرنے میں خرچ ہورہی ہے۔دوہزار تین سے عراق میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی مداخلت اور اس کے بعد شام میں مداخلت سے علاقہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ اور عدم استحکام کا مرکز بن گیا ہے ۔یہ سلسلہ نہیں رکے گا مگر یہ کہ علاقے کے بعض ممالک بیدار ہوجائیں اور حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں اور بے بنیاد دعوے اور الزامات لگانے کےبجائے اپنی کارکردگی کی اصلاح کرلیں۔