افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی سعودی حکام کی کوشش
افغانستان کے صوبے ننگرہار میں وہابیت کا اثر و رسوخ بڑھانے اور ایک نام نہاد اسلامی یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے سعودی حکام کی کوششوں کے بعد، اب سعودی شہزادے سرمایہ کاری کے بہانے افغانستان میں قدم جما رہے ہیں۔
افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال اور ایک با اثر سعودی شاہزادے نے افغان صدر سے ملاقات اور گفتگو کی ہے- اس ملاقات میں طلال نے افغانستان میں سرمایہ کاری کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے- سعودی عرب کے شہزادہ طلال کی افغانستان میں موجودگی نے اس ملک میں سعودی حکام کے اہداف کے سلسلے میں علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی ہے- سعودی شہزادے طلال سعودی عرب کی ممتاز تجارتی کمپنی ''کنگڈم ہولڈنگ'' جو "کے ایچ سی" سے موسوم ہے، کے سربراہ ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے ڈزنی، فاکس، نیوز کارپوریشن، جنرل موٹرز، ٹوئیٹر اور دیگر کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ افغانستان میں جاری بدامنی کے پیش نظر کہ جس کےباعث اس ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے کا افغانستان میں سرمایہ کاری کی نیت سے اس ملک کا سفر کرنا مشکوک معلوم ہوتا ہے- اس کے علاوہ کوئی ایسی رپورٹ بھی منظرعام پر نہیں آئی ہے جس میں علاقے کے ملکوں میں سعودی حکام کی سرمایہ کاری کے بارے میں کچھ ذکر کیا گیا ہو - پاکستان کے دینی مدارس میں بھی عام طورپر سعودی عرب کی سرمایہ کاری ، وہابیت کے فروغ اور فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے کے لئے انجام پائی ہے- القاعدہ کا سرغنہ اسامہ بن لادن بھی سعودی عرب کا ارب پتی شہزادہ تھا کہ جس نے افغانستان کو اپنے دہشت گردانہ حملوں کی کمان کے لئے، اپنے اڈے میں تبدیل کردیا تھا-
حالیہ برسوں میں سعودی حکام نے دہشت گردوں خاص کر داعش کی کھل کر حمایت کرکے عراق اور شام میں بے شمار جارحیتوں کا ارتکاب کیا ہے اس کے علاوہ سعودی حکام نے یمن پر براہ راست حملے کرکے اس ملک کے ہزاروں نہتے اور مظلوم مسلمانوں کا خون بہایا اور ان کو بے گھر کیا ہے- شام اور عراق میں داعش کی بھاری شکست اور یمن کی جنگ میں سعودی حکام کی ناکامی اس بات کا باعث بنی ہے کہ وہ دہشت گردوں کو کسی اور جگہ منتقل کرنے اور انہیں پھر سے منظم کرنے کی فکر کریں- حال ہی میں افغانستان کے مقامی حکام نےاعلان کیا ہے کہ عرب حکام ، شام اور عراق سے فرار کرنے والے داعشیوں کو افغانستان کے علاقوں منجملہ زابل اور ننگرھار صوبوں میں رہائش دے رہے ہیں- اس لئے ولید بن طلال کا دورہ افغانستان ایک طرح سے سعودی شہزادوں کا دکھاوا ہے تاکہ یہ ظاہر کریں کہ ان کا دورہ افغانستان آشکارہ انجام پا رہا ہے اور افغان حکام بھی ان کے دوروں سے باخبر ہیں کیوں کہ حال ہی میں افغان پارلیمنٹ کے رکن جمال فکوری بہشتی نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے اراکین، حکومت افغانستان سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نظر ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیوں کہ سعودی حکام ہمیشہ سے دہشت گرد گروہوں کی نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان اورمشرق وسطی کے بہت سے دیگر ملکوں میں حمایت کرتے آ رہے ہیں جس کے نتیجے میں شام و عراق اور یمن میں ہزاروں بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں- اس کے علاوہ شمالی افغانستان کے علماء نے بھی بارہا، بعض دینی مدارس کی جانب سے منظم طور پر وہابیت کے افکار کی ترویج کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے- کیونکہ سعودی حکام کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ افغان عوام کے درمیان تکفیری اور وہابی افکار کی کوئی جگہ نہیں ہے اسی لئے وہ اپنا اور دہشت گرد گروہوں کا فکری مرکز قائم کرنے کی کوشش میں ہیں اور اسی بہانے سے وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کا بھی ڈھونگ رچ رہے ہیں-