ایران کے بارے میں امریکہ کے بے بنیاد دعووں کا اعادہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i277384-ایران_کے_بارے_میں_امریکہ_کے_بے_بنیاد_دعووں_کا_اعادہ
امریکی سینٹرل کمانڈ یا CENTCOM کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے ایران علاقے کی طاقت بننا چاہتا ہے- انہوں نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے مسلح افواج میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایران تیز رفتار کشتیوں کے استعمال کے ذریعے علاقے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۳۰, ۲۰۱۷ ۱۰:۴۶ Asia/Tehran
  • ایران کے بارے میں امریکہ کے بے بنیاد دعووں کا اعادہ

امریکی سینٹرل کمانڈ یا CENTCOM کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے ایران علاقے کی طاقت بننا چاہتا ہے- انہوں نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے مسلح افواج میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایران تیز رفتار کشتیوں کے استعمال کے ذریعے علاقے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے-

اس امریکی جنرل نے ایران مخالف بیان میں مزید کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت کے علاوہ ایران سے کئی اور خطرات لاحق ہیں- ایران کے پاس طاقتور میزائل پروگرام ہے اور ہمیں ایران کی بحری سرگرمیوں سے بھی تشویش لاحق ہے- امریکہ نے ایران پر گزشتہ تین عشروں کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش، علاقے کے ملکوں کے داخلی مسائل میں مداخلت اور دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور اس وقت بھی امریکہ، ایران کی میزائلی صلاحیت اور بحریہ کی سمندروں میں طاقتور موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کوشش میں ہے کہ علاقے کی سلامتی کو چیلنج سے دوچار کردے-

ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے علاقائی  اتحادیوں کا دباؤ مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے وقت سے شروع ہوا اس دوران امریکہ اور اس کے علاقائی  اتحادیوں  نے صدام حکومت کی ہتھیاروں سے مدد وحمایت کی یہاں تک کہ صدام کو کیمیاوی ہتھیار بھی دیئے، ایران کا اقتصادی محاصرہ کیا اور ایرانی عوام کو انقلابی اہداف کے عملی جامہ پہننے سے مایوس کرانے اور انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کو ہلکا ظاہر کرنے کی کوشش کی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن امریکہ اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کرسکا ہے- ایران کے خلاف امریکہ کا دشمانہ رویہ بدستور جاری ہے اور امریکہ ایران کو ایک خطرہ ظاہر کرنے میں کوشاں ہے- البتہ ایران، ان تخریبی حربوں کو ناکارہ بنانے کا تجربہ رکھتا ہے - اسلامی جمہوریہ ایران کی، جنوب میں سمندری سرحد تقریبا دوہزار کیلومیٹر ہے کہ جس کے سبب یہ علاقہ جیوپولیٹکل پوزیشن کا حامل ہے - اس حساس پوزیشن کا تقاضا یہ ہے کہ علاقے میں اغیار کے اقدامات کا حساسیت کے ساتھ جائزہ لیا جائے-

اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ 1982 کے سمندری کنونشنوں کی بنیاد پر اگر امریکی اور ان کے علاقائی اتحادی یہ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا استعمال کریں اور ایران کو ڈرائیں دھمکائیں تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا- اسلامی جمہوریہ ایران وہی کام انجام دے رہا ہے جو ہر خودمختار ملک کو ، اپنی قومی سلامتی کی حفاظت کے لئے انجام دینا چاہئے- ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہے کہ خلیج فارس میں امریکہ اور برطانیہ کی وسیع پیمانے پر فوجی موجودگی اور اس علاقے میں فوجی اڈوں کے قیام کا آخر مقصد کیا ہے؟ البتہ خلیج فارس کے بعض عرب ممالک اپنی سلامتی کے لئے اغیار کے محتاج ہیں اور انہوں نے اس اسٹیریٹیجی کے تحت، خلیج فارس کے علاقے کو اغیار کی مداخلت کے میدان میں تبدیل کردیا ہے- امریکی حکام کی بھی کوشش ہے کہ اس طرح سے ظاہر کریں کہ ان کا مقصد خلیج فارس کے علاقے پر ایران کے تسلط سے مقابلہ اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک گذرگاہ کی سلامتی کو تحفظ فراہم کرنا ہے-

اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکورٹی ڈاکٹرائن ، شروع سے ہی یہ رہی ہے کہ علاقے کی سلامتی کا تحفظ کرتے ہوئے اسے کشیدگی سے دور رکھا جائے- اسی سلسسلے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ہمیشہ دشمنوں اور جارحین کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ علاقے میں سلامتی قائم کرنے پر قادر ہیں- امریکہ کے توسط سے علاقے کے سمندروں میں ایران کی مہم جوئی کا دعوی، درحقیقت ایران کے خلاف بےبنیاد الزامات لگانے کے مقصد سے ہے اور امریکہ اور برطانیہ کے حکام کی علاقے میں آمد و رفت میں اضافہ، اسی تناظر میں قابل غور ہے-

واضح سی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دھمکیوں اور خطرات کے پیش نظر اپنی دفاعی اسٹریٹیجی ، دفاعی طاقت کو ارتقا دینے کے ذریعے منظم کی ہے اور وہ علاقے میں ہر جارح کی جارحیت اور حملے کا منھ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہے- ایران اس کے ساتھ ہی پڑوسی ملکوں کے تعاون سے اجتماعی سلامتی کے تحفظ کے لئے ، علاقائی تعاون پر یقین رکھتا ہے-