ایران کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل کی سازشیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i277528-ایران_کے_خلاف_خلیج_فارس_تعاون_کونسل_کی_سازشیں
خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں نے جمعرات کو ریاض میں ایک نشست کے اختتام پر ایران پر یہ الزام لگایاکہ بقول ان کے ایران، بحرین میں دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۳۱, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۳ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل کی سازشیں

خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں نے جمعرات کو ریاض میں ایک نشست کے اختتام پر ایران پر یہ الزام لگایاکہ بقول ان کے ایران، بحرین میں دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔

 

خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں نے جمعرات کو ریاض میں ایک نشست کے اختتام پر ایران پر یہ الزام لگایاکہ بقول ان کے ایران، بحرین میں دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس کے بیان میں ایران پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران ، عرب ملکوں میں فرقہ وارانہ تنازعات اور عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کرنا بند کرے۔

بحرین کے وزیر خارجہ نے بھی یہ بے بنیاد الزام دوہراتے ہوئے کہ ریاض اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران سے تعلقات کے بارے میں گفتگو اور بحث ہوئی ہے کہا کہ کویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ خالد حمد صباح کے دورہ تہران کے بارے میں انہوں نے جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ زیر غور آئی ہیں۔

خلیج فارس تعاون کونسل کی نشست کا بیان اور بحرین کے وزیر خارجہ کے بیانات سے اس نشست کے اھداف کا پتہ چل جاتا ہے کہ اس کونسل کے بعض ممالک نے ریاض کی پیروی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرلئے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کشیدہ ہیں کیونکہ سعودی عرب نے علاقے کے بہت سے ممالک کے سامنے مشکلات کھڑی کررکھی ہیں۔ اس کے باوجود خیلج فارس تعاون کونسل نے اپنے اختتامی بیان میں حقائق کو توڑ مروڑ کر ایران پر عرب ملکوں کے امور میں مداخلت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ محض ایک الزام ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت اور دلیل نہیں ہے۔ اس طرح کے بزدلانہ اور انحرافی اقدامات سے علاقے میں اختلافات اور بحران  پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وہی ھدف ہے جس کے درپے امریکہ اور اسرائیل ہیں اور بعض عرب ممالک بھی ان اھداف کے حصول کے لئے امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ خلیج فارس تعاون کونسل نے اب تک حقیقی خطروں کا مقابلہ کرنے کےلئے  کوئی موثر اقدام نہیں کیا ہے بلکہ علاقے میں کشیدگی پھیلائی ہے اور یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی تائید کی ہے۔ واضح رہے سعودی عرب خلیج فارس تعاون کونسل کے کھنڈروں پر ایران کے خلاف اتحاد قائم کرکے اپنی متزلزل پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ بحرین بھی اس درمیان کوشش کررہا ہے کہ اپنے عوام کے برحق مطالبات کو نظرانداز کرکے ایران پر الزام لگا کر خود کو ملک کے مسائل سے مبرا کرلے۔

بحرین کے وزیر خارجہ نے ایسے عالم میں ایران کے ساتھ خلیج فارس کے  عرب ملکوں کی کونسل کے تعلقات کی بات کی ہے کہ سعودی عرب نے اس کونسل کے بعض عرب ملکوں کے ہمراہ ایران کے خلاف عراق کے خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی مسلط کردہ جنگ میں صدام کی اربوں ڈالر مدد کی تھی لیکن انہوں نے بظاہر ماضی کو فراموش کردیا ہے اور خود کو ایسی پوزیشن میں دیکھ رہے ہیں کہ ایران پر فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کا الزام لگاسکتے ہیں۔ خلیج فارس تعاون کونسل کی ریاض کانفرنس کا اختتامی بیان ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ اس کونسل نے دوست اور دشمن کی جگہ بدل دی ہے۔خلیج فارس کے عرب ملکوں کی کونسل سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ اس نے صیہونی حکومت کی مذمت میں اب تک کتنے بیان جاری کئے ہیں؟ یاد رہے خلیج فارس تعاون کونسل نے ہمیشہ تفرقہ ڈالنے اور علاقے میں امریکہ اور برطانیہ کو مداخلت کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ یہ اقدامات اور یہ غیردانشمندانہ نظریات حقیقت سے فرار کرنے کے مترادف ہیں کہ جن کا نتیجہ علاقائی ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کے خراب ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلے گا اور یقینا یہ صورتحال ان ملکوں کو اپنی مشکلات اور مسائل حل کرنے میں کوئی مدد نہیں کرے گی۔ علاقے میں چینلجوں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ منقطی طور پر عمل کرنا پڑے گا اور ماضی سے سبق لینا ہوگا۔