دہشتگردی کے تعلق سے پاکستان کا دوہرا رویہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i277606-دہشتگردی_کے_تعلق_سے_پاکستان_کا_دوہرا_رویہ
پاکستان کے شمال مغربی علاقے کرم ایجنسی کے شہر پاراچنار میں جمعے کے دن ہونے والے تکفیری دہشتگردانہ واقعے میں کم از کم بائیس افراد شہید اور ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۰ Asia/Tehran
  • دہشتگردی کے تعلق سے پاکستان کا دوہرا رویہ

پاکستان کے شمال مغربی علاقے کرم ایجنسی کے شہر پاراچنار میں جمعے کے دن ہونے والے تکفیری دہشتگردانہ واقعے میں کم از کم بائیس افراد شہید اور ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

 

پاکستان کے شمال مغربی علاقے کرم ایجنسی کے شہر پاراچنار میں جمعے کے دن ہونے والے تکفیری دہشتگردانہ واقعے میں کم از کم بائیس افراد شہید اور ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تکفیری دہشتگرد گروہ جماعت الاحرار نے اس انسانیت سوز کارروائی کی ذمہ داری لے لی ہے۔ دہشتگردانہ بم دھماکے کے بعد پاراچنار میں ہنگامی حالات نافذ کردیے گئے اور آس پاس کے شہروں میں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ واضح رہے شہر پاراچنار گذشتہ مہینوں میں دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ رہا ہے۔ شہر پاراچنار میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ گذشتہ جنوری کو بھی شہر پاراچنار کی سبزی منڈی میں دہشتگردانہ بم دھماکہ ہوا تھا جس میں پچیس افراد شہید اور دسیوں زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے تین مہنیوں کے اندر اندر دوسرا دہشتگردانہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہےکہ پاکستان میں شیعہ مسلمان بدستور دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں۔ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کا جاری رہنا یہ واضح کرتا ہے کہ اسلام آباد حکومت شیعہ مسلمانوں کو سیکیورٹی اور تحفظ فراہم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دیتی ہے۔

پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر وسیع پیمانے پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے باجود مسلم لیگ ن کی حکومت نے شیعہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔

اسی وجہ سے حکومت پر ان کا اعتماد کم ہوگیا ہے اور اس کے خلاف تنقیدوں میں شدت آنے نیز ان کے احتجاج کا سبب بنا ہے۔اگرچہ حکومت پاکستان نے دوہزار چودہ میں دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا لیکن بعض سرکاری اداروں کے مطابق حکمران پارٹی شدت پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے اور یہ نیشنل ایکشن پلان مجموعی طورپر کامیاب نہیں رہا ہے۔

پاکستان میں یہ کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے مقابلے میں حکومت اور فوج کی ناکامی دہشتگردی کے ساتھ ان کے دوہرے رویوں کی بنا پر ہے۔جیسا کہ کئی مہینوں قبل وزیر داخلہ چودھری نثار  علی خان نے دہشتگرد گروہ سپاہ صحابہ کے سرغنوں سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات پر پاکستان میں خاصہ ہنگامہ مچا تھا بالخصوص اس بات کے بعد کہ حکومت کی طرف سے لشکر جھنگوی اور جماعت الاحرار کو بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنے پر بھی مسلم لیگ ن پر ہر طرف سے تنقیدیں ہوئی تھیں۔پاکستان کے وزیر داخلہ کا دہشتگرد گروہ سپاہ صحابہ کے لیڈروں سے ملاقات کرنا اسی طرح لشکر جھنگوی اور الاحرار گروہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل نہ کرنا پاکستان کی حکومت کے دوہرے معیار ہیں جس کی وجہ سے انتہا پسند گروہوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔

دہشتگردی سے نمٹنے میں پاکستان کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدیں ہورہی ہیں اور کہا جارہا ہےکہ حکومت اچھی اور بری دہشتگردی کی قائل ہے۔

افغانستان کے حکام جو پاکستان پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کو اچھی اور بری دہشتگردی میں تقسیم کرنے کی وجہ سے کابل کی دہشتگردی مخالف اسٹریٹجی بھی ناکام رہی ہے۔

ایسے عالم میں جبکہ پاکستان خود دہشتگردی سے روبرو ہے دہشتگردی کے ساتھ دوہرے معیار اپنانا اورانتہا پسند گروہوں کے ساتھ غیر شفاف طریقے سے عمل کرنے سے یہ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت کن مفادات کی وجہ سے اس بات پر تیار نہیں ہے کہ مادی وسائل اور انسانوں کے دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے کے باوجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف یکسان طور پر پیش آئے اور بغیر کسی امتیار کے ان کے خلاف موقف اختیار کرے؟