ارض وحی پر آل سعود کا تشدد جاری  
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i277608-ارض_وحی_پر_آل_سعود_کا_تشدد_جاری
آل سعود کے سیکیورٹی کارندوں کے حملوں میں دو جوان شہید اور کم از کم چار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ مشرقی صوبے القطیف کے العوامیہ علاقے میں پیش آیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۱ Asia/Tehran
  • ارض وحی پر آل سعود کا تشدد جاری  

آل سعود کے سیکیورٹی کارندوں کے حملوں میں دو جوان شہید اور کم از کم چار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ مشرقی صوبے القطیف کے العوامیہ علاقے میں پیش آیا ہے۔

 

 سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ العوامیہ میں یہ حملہ امن و امان قائم کرنے کے لئے کیا گیا ہے کیونکہ اس شہر کے جوانوں نے بدامنی پھیلانے اور آل سعود کے خلاف اقدامات کرنے کے منصوبے بنائے تھے۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقے منجملہ صوبہ قطیف دو وجوہات کی بنا پر نہایت اہمیت کا حامل ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ شیعہ علاقے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ دراصل اگرچہ سعودی عرب کے دیگر شہروں جیسے مدینے میں بھی شیعہ مسلمانوں کی آبادی ہے لیکن مشرقی علاقے شیعہ مسلمانوں کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ آل سعود کی فوجی پالیسیوں کی بنا پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے۔ البتہ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یقینا سعودی عرب کی آبادی کا دس فیصد حصہ شیعہ مسلمان تشکیل دیتے ہیں جن میں اکثریت مشرقی علاقوں میں بستی ہے۔

 جیسا کہ ابھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے  آل سعود کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ سعودی عرب کو تیل کی آمدنی کا نوے فیصد حصہ مشرقی علاقوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ یہ علاقے تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔  ان علاقوں کی آبادی اور ان میں پائے جانے والے تیل کے ذخائر کی بنا پر یہ علاقے آل سعود کے لئے اسٹریٹجیک اہمیت کے حامل ہیں۔البتہ آل سعود ان علاقوں کو فقط سیکیوریٹی کا عینک لگا کر دیکھتی ہے کیونکہ سعودی عرب شیعہ مسلمانوں کو دوسرے درجے ک اشہری سمجھتی ہے۔ آل سعود اور وہابیت کی فرقہ وارانہ نگاہ کے پیش نظر جن کے ہاتھ میں سعودی عرب کا اقتدار ہے شیعہ مسلمانوں کو خطرہ سمجھاجاتا ہے لہذا شیعہ مسلمانوں کو محروم رکھنے اور ان کے خلاف باضابطہ طور پر تعصب اور امتیاز برتنا حکومت کی پالیسیوں میں شامل ہے۔آل سعود کی ان ہی پالیسیوں کے خلاف مشرقی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا یہ کہنا کہ مشرقی علاقے العوامیہ میں امن و امان قائم کرنے کے لئےحملے کئے گئے ایسے عالم میں ہے کہ بدامنی کا سب سے بڑا سبب آل سعود کی حد سے زیادہ تشدد آمیز پالیسیاں ہیں ۔ آل سعود کے مخالف دھڑوں نے اس سلسلے میں اٹھائیس مارچ کو اطلاع رسانی کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے آل سعود کے فوجی العوامیہ کے علاقے الرامس میں گولیاں چلا رہے ہیں۔ آل سعود کے کارندوں کے ان حملوں میں دو افراد شہید ہوگئے۔ شہدا کا تعلق شہید نمر باقر النمر کے خاندان سے ہے۔ سعودی کارندوں کے حملوں میں پانچ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں شہید نمر کے بیٹے محمد عبداللہ النمر بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب یہ توقع رکھتا ہے کہ ان وحشیانہ حملوں کے بعد بھی اس علاقے کے لوگ اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ نہیں کریں گے۔