ایران کے خلاف امریکہ کی سازشیں
وائٹ ہاوس کے حکام نے کچھ دنوں سے ایران کے خلاف نئےمعاندانہ اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
علاقے کے عرب ملکوں میں مداخلت، ایران کی جانب سے دہشتگردی کی حمایت اور ایران کی میزائیلی توانائی کو خطرہ بنا کر پیش کرنا امریکی الزامات کے اہم نمونے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے حکام کے بیانات اور ساتھ ساتھ کانگریس میں ایران کے میزائل پروگرام کے بارےمیں ورکنگ گروپ کی تشکیل اور سپاہ پاسداران پر ممکنہ پابندیوں کے بارے میں لفاظی کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹیز نے اپنے حالیہ دورہ لندن میں بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ایران دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔ اسی طرح کے الزامات نیٹو کے سابق اعلی کمانڈر جیمز جونز نے لگائے ہیں۔ انہوں نے ہفتے کے دن الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ایران ایک حقیقی خطرہ ہے اور عربی نیٹو کی تشکیل ایران کو بھرپور پیغام دیتی ہے۔ جنرل جونز نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس بات کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ایران کے خلاف اس طرح کے پروپگینڈے ایسےعالم میں تیز تر ہوتے جارہے ہیں کہ امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب نے مشرق وسطی کے ملکوں کے سامنے بہت سے چیلنج کھڑے کردئے ہیں۔ اس کے باوجود امریکی حکام حقائق کو مسخ کرکے ایران پر مسلسل یہ الزام لگارہے ہیں کہ ایران علاقائی ملکوں کے امور میں مداخلت کررہا ہے۔ یہ ایسا الزام ہے جس کو ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی ثبوت اور دلیل نہیں ہے۔بلکہ محض ایک بہانہ ہے تا کہ وہ ایرانوفوبیا کو جاری رکھ سکے اور اس کا جواز پیش کرسکے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کے مطابق یہ کام یعنی غلط بات کرکے حقائق کی تحریف کرنا اور دوسروں کو مورد الزام ٹہراناہے ۔ بہرام قاسمی نے امریکی وزیر دفاع کے جھوٹے اور بار بار کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے مذموم اھداف کے تحت ایران کو مورد الزام ٹہرانے اوردہشتگردی سے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استفادہ کرنے کی اپنی پہلے کی شکست خوردہ پالیسیوں کو اپنانے کے بجائے اپنے بعض علاقائی اتحادیوں کو دہشتگرد اور تکفیری گروہوں کی مالی، فکری اور اسلحہ جاتی حمایت بند کرنے کی تلقین کرے۔ امریکہ نے دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کےلئے کوئی موثر اقدام نہیں کیا ہے بلکہ خود دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے اور علاقے میں کشیدگی پھیلاکر دہشتگردوں کی سرگرمیوں کی زمین ہموار کرتا ہے اور انہیں منتقل کئےجانے کے بھی امکانات فراہم کرتا ہے۔ وائٹ ہاوس اور کانگریس میں جنگ پسند ٹولہ محض ہتھیار فروخت کرکے پٹرو ڈالروں سے اپنی جیبیں بھرنے کی فکر میں ہے اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی تجویز جیسے عرب نیٹوکی تشکیل کی تجویز پیش کرتا رہتا ہے۔
البتہ علاقے کے بعض ممالک اور سعودی عرب یہ سوچتے ہیں کہ ایرانوفوبیا کو ہوا دے کر وہ اپنی پوزیشن کو بحال کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب اس سلسلے میں تیز قدم بڑھا رہا ہے اور اس نے علاقے میں عرب اتحاد کی تجویز پیش کی ہے تاکہ بزعم خویش ایران کے خلاف ایک اتحاد بناسکے، البتہ اس سلسلے میں باتوں اور عمل کرنے میں بہت فاصلہ پایا جاتا ہے۔ امریکہ حتی کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنے کے سلسلے میں احتیاط سے کام لے رہا ہے اور بعض سینیٹروں کی جانب سے جامع مشترکہ ایکشن پلان کی براہ راست خلاف ورزی نہ کرنے کے بارے میں نصحیت بھی اسی حقیقت پر دلالت کرتی ہے۔ فارین پالیسی کی ویب سائیٹ نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کا مقابلہ کریں لیکن اس قیمت پر نہیں کہ ایٹمی معاہدہ خطرے میں پڑجائے۔ دراصل اس نصحیت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف مخاصمانہ پالیسیاں اور سازشیں کرنا چھوڑدے بلکہ اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امریکہ کی دونوں پارٹیاں اور وائٹ ہاوس ایران کو علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے تا کہ اس طرح عالمی برادری کو ایران کے خلاف لاکر کھڑا کرسکے۔ اس کے معنی عالمی برادری کو فریب دینے کے ہیں۔ جس طرح سے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیر دفاع کے بے بنیاد دعوے کے جواب میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر کئے جانے والے اقدامات کی ناکامی کی اصل وجہ یہ ہےکہ دہشتگردی کی بنیادی وجوہات اور اس کے مالی ذرائع کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور رائے عامہ کو دہشتگردی کے اصلی حامیوں سے منحرف کیا جارہا ہے۔