افغان فوج کے ہاتھوں طالبان کے سینئر کمانڈروں کی ہلاکت
طالبان اور تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف افغان فوج کی کامیابیاں اس کی آپریشنل اور انٹلیجنس توانائیوں میں بہتری آنے کی دلیل ہیں۔
صوبہ فاریاب میں فوج کے ہاتھوں طالبان کے تین سینئر کمانڈروں کی ہلاکت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان فوج نے اپنے ملک کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بتدریج اپنی توانائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ افغانستان کی فوج کے ترجمان کے مطابق افغان فوج نے صوبہ فاریاب کے سرحوض گاؤں میں فضائی کاروائی کرتے ہوئے تین سینئر کمانڈروں سمیت طالبان کے دس جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ ان کمانڈروں کے نام ملا محمود، ملا محب اللہ اور ملا محمد عمر ہیں۔ حالیہ مہینوں میں افغان فوج اور پولیس کی کاروائیوں میں طالبان کے کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی ہے۔جن میں جنوب مشرقی افغانستان میں مولوی حمید، غور صوبے میں قاری سیف الدین اور لغمان صوبے میں ملا عبدالصبور اور صوبہ قندوز میں ملا عبداللہ سالم کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ طالبان گروہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرکے افغان فوج کے مقابلے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن افغاں فوج نے بھی بتا دیا ہے کہ وہ بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہی ہے اور طالبان کو بھاری نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان گروہ نے اپنے جنگجووں کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کرکے ملک بھر میں پراکندہ کردیا ہے اور اس کے جو عناصر فوج میں گھس گئے ہیں ان سے بھی فوج کو نقصان پہنچانے کے لئے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
افغان فوج کے ہاتھوں طالبان کے سینئر کمانڈروں کے مارے جانے سے پتہ چلتا ہے کہ افغان فوج عوام میں خاصا رسوخ رکھتی ہے اور اچھی فوجی انٹلیجنس کی بھی حامل ہے جس سے طالبان کو سرکوب کرنے کی اس کی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔چونکہ طالبان کے جنگجو عوام کے درمیان اور رہائشی علاقوں میں روپوش ہوجاتے ہیں لھذا ان کو پکڑنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے اسی وجہ سے عوام کی مدد سے انہیں پہچان کر پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے جس سے افغان فوج کو کامیابیاں حاصل ہوسکتی ہیں۔ افغانستان کی فوج کے سینئر کمانڈروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر انہیں پیشرفتہ ہتھیار اور جنگی ساز و سامان دیا جائے تو وہ بھرپور طرح سے دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔افغانستان کی فوج میں تقریبا ساڑھے تین لاکھ فوجی شامل ہیں، اگر اس فوج کو بہتر ٹریننگ اور پیشرفتہ ہتھیار فراہم کئےجائیں تو وہ تمام محاذوں پر دشمن کا بھرپور مقابلہ کرکے اسے شکست دے سکتی ہے۔یہاں پر ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں بحران کو اپنے حق میں موڑ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ سولہ برسوں میں بھی یہی کیا ہے اسی وجہ سے امریکہ اور نیٹو نے افغان سکیورٹی فورسز کو ضروری ساز و سامان سے لیس نہیں کیا یہاں تک کہ بعض افغاں کمانڈروں کا کہنا ہے کہ بعض محاذوں پر طالبان کے پاس افغان فوج سے بہتر ہتھیار اور ساز و سامان موجود ہے۔ بہرحال افغان فوج کے ہاتھوں طالبان کے سینئر کمانڈروں کا مارا جانا اس بات کا سبب بنا ہے کہ طالبان کے حوصلے پست ہوں اور افغان فوج کی پوزیشن مضبوط ہو اور افغان فوج کی یہ کامیابیاں افغانستان کے دشمنوں کے مقابلے میں فوج کی مزید کامیابیوں کی نوید دیتی ہیں۔