خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کی نئی سازشیں
علاقے میں سفارتی کوششوں سے لگتا ہے کہ امریکہ علاقے کے عرب ملکوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے تا کہ ایران کے خلاف نام نہاد عرب اتحاد قائم کر سکے۔
عرب ملکوں کے حکام کے واشنگٹن کے متعدد دوروں کا بھی یہی مقصد ہے۔ عرب حکام میں حال ہی میں واشنگٹن کا دورہ کرنے والے مصر کے صدر عبدالفتاح سیسی ہیں اس کے بعد یہ طے پایا ہے کہ اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم بھی وائٹ ہاوس کا دورہ کریں گے۔ بعض سفارتی ذرایع نے کہا ہے کہ جنرل سیسی اور سعودی عرب کے بادشاہ سلمان کے درمیان ملاقات کا امکان پایا جاتا ہے۔ سیاسی اور خبری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کے خلاف امریکہ کی چالوں کا نیا دور ہے اور وہ ایران کے خلاف علاقے کے بعض ملکوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ لندن سے شایع ہونے والے اخبار الرای الیوم نے ان نئے اقدامات کو خلیج فارس کے ملکوں کے لئے نیا جال قراردیا ہے جسے ایران کے مقابلے کے نام کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔اس اخبار کی ویب سائٹ پر ایڈیٹر ان چیف عبدالباری عطوان نے لکھا ہے کہ نیا مقابلہ جس کے لئے امریکہ خود کو آمادہ کررہا ہے شاید شام کی سرزمین پر نہ ہو بلکہ خلیج فارس اور یقینا ایران کے خلاف ہوگا۔
نیٹو کے سابق امریکی سینئر کمانڈر نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کی ان ہی نئے اقدامات کی تائید کی ہے۔ امریکی جنرل نے خلیج فارس میں نیٹو کی طرح کی تنظیم بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہےکہ اس کا نام خلیج فارس کا نیٹو رکھا جائے۔امریکی جنرل جمیز جونز کے بیان میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر خلیج فارس کے عرب ممالک فوجی لحاظ سے متحد ہوجائیں اور ایک فوجی بلاک میں تبدیل ہوجائیں تو امریکہ اس طرح کے بلاک سے تعاون کرنے کا خیر مقدم کرے گا اور اس میں شامل ہوجائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے قریبی تعلقات اور سعودی عرب اور بحرین میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں اور یہ اڈے علاقے میں امریکہ کا فوجی اثر ورسوخ پیدا کرنے کا ایک راستہ ہے اور یہی فوجی اڈے خلیج فارس کے نیٹو کا انفرا اسٹرکچر تشکیل دیتے ہیں۔ البتہ سعودی عرب اور علاقے کے بعض عرب ممالک امریکہ کی اس نئی چال سے اپنے لئے مواقع فراہم کرنا چاہتا ہیں۔ سعودی عرب نے خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ اجلاس میں علاقے میں عرب اتحاد کا آئیڈیا پیش کیا تھا جس کی ماہیت ایران مخالف ہوگی۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ٹرمپ کے دورہ صدارت میں علاقے میں طویل مدت فوجی مداخلت کا منصوبہ رکھتی ہے۔ سعودی عرب جیسے ممالک جنہیں علاقے میں اپنی جنگ پسندانہ پالیسیوں میں شکست ہوئی ہے اور انہیں داخلی طورپر بھی چینلجوں کا سامنا ہے امریکہ کی چال میں پیش پیش ہیں البتہ اس چال میں خلیج فارس کے تمام عرب ممالک لازمی طور پر امریکہ اور سعودی عرب کے ہنموا نہیں ہیں۔عمان، قطر اور کویت کے موقف اس سلسلے میں الگ دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ اس سیاسی کھیل میں دراصل یہ چاہتا ہے کہ علاقے میں اس کی مداخلتوں کا بجٹ عرب ممالک ادا کریں اور یہ ٹرمپ کا بھی نظریہ ہے جس نے اس طرح کے موضوعات کو اپنے انتخاباتی ایجنڈے میں شامل کیا تھا۔ امریکہ کی یہ سازشیں ایسے عالم میں سامنے آرہی ہیں کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ڈپازیٹ ختم ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں خرچے کم کرنے کا سنگین بار عوام کے نحیف کندھوں پر پڑرہا ہے۔امریکہ نے گذشتہ چار مہینوں میں بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ علاقے میں امن قائم کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس نے حقیقی خطروں سے مقابلہ کرنے کے لئے کسی بھی طرح کا موثر اقدام انجام نہیں دیا ہے کیونکہ اس نے خود ہی یہ سارے خطرے پیدا کئے ہیں اور علاقے میں کشیدگی پیدا کرکے اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں کے لئے وسیع پیمانے پر اہتھیاروں کی فروخت کی زمین ہموار کی ہے۔ بلاشک امریکہ کی نئی تخریبی چال میں ان ملکوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا جنہوں نے اپنے اور علاقے کے مفادات کو امریکہ کی پالیسیوں پر عمل کرنے کا وسیلہ بنالیا ہے۔