امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی
یہ سوچا جا رہ اتھا کہ واشنگٹن میں ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری آئے گی لیکن روس کے صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت روس اور امریکہ کے تعلقات سرد جنگ سے کہیں بدتر ہیں۔
دیمتری پسکوف نے کہا ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ میں روس کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپگینڈا اس بات کا سبب بنا ہے کہ امریکیوں کو ہرجگہ روسی ہیکروں کا ہی سراغ ملتا ہے۔ پسکوف نے کہا کہ روس کے خلاف پروپگینڈے کا ہدف امریکی رائے عامہ ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ان الزامات کو مسترد کیا کہ روس نے امریکہ کے دوہزار سولہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے۔ جنگ سرد جس کے بارے میں کرملین کے ترجمان نے بات کی ہے وہ اس زمانے میں جاری تھی جب سابق سوویت یونین اور امریکہ نیٹو اور وار سا پیکٹ پر کاربند تھے یہانتک کہ ایک دوسرے کے علاقوں پر پابندیاں لگانے، مخالف حکومتوں کو سرنگون کرنے اور تشہیراتی جنگ جاری رکھنے میں مشغول رہا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف فوجی، اقتصادی اور تشہیراتی صف آرائی کیا کرتے تھے۔ سابق سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد سرد جنگ کے خاتمے کا بھی اعلان کردیا گیا لیکن اس کے باوجود ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان سکیورٹی اور اقتصادی لحاظ سے باہمی تعلقات میں نہ صرف بہتری نہیں آئی بلکہ پہلے سے چلے آرہے اختلافات کو حل کرنے کے لئے بھی دونوں ملکوں کے درمیان کسی طرح کا تعاون نہیں دیکھا گیا بلکہ وارسا معاہدے کے ختم ہونے کے باوجود نیٹو تنظیم بدستور امریکہ کی کمان میں باقی رہی اور اب نیٹو سابق وارسا معاہدے کے ملکوں میں بھی پھیل گئی ہے اور یہ ممالک اس کے رکن بن گئے ہیں اس طرح نیٹو تنظیم روس کی سرحدوں تک پھیل گئی ہے۔
اگر سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ اور نیٹو میں اسکے اتحادی اگر سابق سوویت یونین کے خطرے اور آزادی کے فقدان کی بنا پر اس ملک پر پابندیاں لگاتے تھے، اب روس کو انسانی حقوق کی پامالی، آزادی کے فقدان اور مخالفین کو کچلنے کے بہانے اس کو اپنی پابندیوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ روس مخالف پالیسیاں ٹرمپ کی حکومت میں بھی جاری ہیں۔ ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتین نے کہا ہے کہ روس میں حالیہ دنوں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے امریکہ کے اکسانے پر اور حکومت کی تبدیلی کی غرض سے انجام پائے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ چونکہ پہلے کی حکومتوں کی شروع کی ہوئی جنگوں اور اقتصادی مشکلات کی وارث ہے لھذا وہ چاہتی ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کےلئے روس کا تعاون حاصل کرے اور اسی وجہ سے امریکہ نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی بات بھی کی ہے۔ البتہ اس امرکے پیش نظر کہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ روس سے اسی وقت تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں جب روس امریکہ کی پالیسیوں کی ہمنوائی کرے تو یہ بات پہلے سے کہی جاسکتی ہے کہ دونوں کے ملکوں کے تعلقات بدستور کشیدہ ہی رہیں گے۔
امریکی حکام نے امریکہ میں ہونے والے صداتی انتخابات میں روس کی مداخلت کا الزام لگا کر رشیا فوبیا کی پالیسی پرعمل کرنا شروع کردیا ہے اور انہوں نے یہ الزامات یورپی ملکوں کے انتحابات کے تعلق سے بھی لگائے ہیں۔ ان الزامات کا مقصد روس کی سرحدوں کی تک اپنی افواج کی تقویت ہے۔ امریکہ کے سیاستداں اپنی رائے عامہ کو سرد جنگ کے دشمن اور موجودہ حریف سے دوبارہ مرعوب کر رہے ہیں اور مشرقی یورپ کے ملکوں کو ہتھیار فراہم کرکے روس کی سرحدوں کے قریب اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ دراصل اس وقت روس کے خلاف امریکہ کی صف آرائی، میڈیا وار، اور تشہیراتی اور اقتصادی جنگ جس کے نمونے ہم نے روس پر پابندیوں کی صورت میں دیکھے ہیں سرد جنگ کے زمانے کی نسبت کئی گنا شدت سے جاری ہے۔ روس کی طاقت دنیا کے مختلف ممالک میں امریکہ کی یکہ تازی کے سامنے رکاوٹ ہے۔ امریکہ کے سیاسی رہنما، فوجی اور ذرائع ابلاغ اپنے روس مخالف موقف پر قائم ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے رقیب کو ختم کرنے کی پالیسی ممکن ہے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیاں معاندانہ صورتحال میں تبدیل ہوجائے۔