ایران کے خلاف امریکہ کے الزامات اور سازشیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i277956-ایران_کے_خلاف_امریکہ_کے_الزامات_اور_سازشیں
اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نیّکی ہیلی نے علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مقابل ڈٹ جانا چاہیے اور امریکہ اس سلسلے میں خلیج فارس کے ملکوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ایران پر یہ بے بنیاد الزام لگایا کہ ایران دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۶ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف امریکہ کے الزامات اور سازشیں

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نیّکی ہیلی نے علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مقابل ڈٹ جانا چاہیے اور امریکہ اس سلسلے میں خلیج فارس کے ملکوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ایران پر یہ بے بنیاد الزام لگایا کہ ایران دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے۔

اقوام متحدہ برسوں سے امریکہ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ادارہ بن چکا ہے امریکہ اقوام متحدہ اور اسکی ذیلی تنظیموں سے اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کے لئے استفادہ کرتا ہے۔امریکہ نے اس کے باوجود اقوام متحدہ کو واجب الادا رقم نہ دے کر اسے مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ امریکہ کا ایک اور اقدام جو عالمی آداب کے برخلاف ہے وہ اقوام متحدہ کو استعمال کرتے ہوئے بغیر ثبوت و شواہد کے دوسرے ملکوں پر الزام لگانا اور اسے عالمی موقف کے طور پر اپناناہے۔ اس طرح سے الزامات لگانا دراصل ملکوں کے حقوق پامال کرنا اور قوموں اور حکومتوں کے اعتبار کو نقصان پہنچانا ہے۔

امریکہ کی جانب سے دہشتگردی کے مقابلے کے دعوی کے باوجود اس کی پالیسیوں سے اقوام عالم اور خاص طور سے علاقے کے عوام کو دہشتگردی، جنگ اور ملکوں کے ٹکڑے ہونے اور بدامنی کے علاوہ اور  کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔امریکہ کے سیاہ کارناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی پالیسیاں نہ صرف دہشتگردی سے مقابلے میں بلکہ دیگر امور جیسے جمہوریت اور دیگر قوموں کے حقوق کے بارے میں محض نعرے اور دعوے ہیں اور اس کے دعووں کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے مغرب بالخصوص امریکہ کی  تہذیب کی برتری ثابت کرنا ہے۔ ان پالیسیوں کانتیجہ شام کے تلخ واقعات اور عراق و یمن و مغربی ایشیا سے شمالی افریقہ تک دیکھا جاسکتا ہے۔ ان علاقوں میں ہر طرف بدامنی، جنگ اور انتہا پسندی پھیلی ہوئی ہے۔ اس درمیان اقوام متحدہ امریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا ہتھکنڈا بنی ہوئی ہے اور عالمی برادری کی بار بار کی تنقیدوں کے باوجود یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

القاعدہ سے لے کر داعش اور جبھۃ النصرۃ، بوکوحرام اور الشباب نیز احرار الشام اور دیگر دسیوں خطرناک دہشتگرد گروہ جو مغرب کی انحرافی اور تشدد آمیز پالیسیوں سے معرض وجود میں آئے ہیں اور آج ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں امریکہ کی  ان ہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا تاکید کی ہے کہ انتہا  پسندی اور تشدد پسندی کا بھرپور مقابلہ کیا جانا چاہیے اگر اس دہشتگردی سے- جس میں  ایران کے سترہ ہزار افراد امریکہ کی ہدایت شدہ اور ایران کے دشمنوں کی باہدف سازشوں کا شکار ہوئے ہیں- سنجیدگی سے مقابلہ کیا جاتا تو آج دہشتگردی اس قدر وسیع پیمانے پر نہ پھیلتی۔ آج ایران کے ہمسایہ ممالک اور اطراف کے علاقے دہشتگردی میں گرفتار ہیں اور ان میں  بدامنی پائی جاتی ہے اور امریکہ دوسروں پر الزام لگا کر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندے کی جانب سے ایران پر الزامات لگانا اور ان کا امریکہ اور دیگر ملکوں کو ایران سے مقابلہ کرنے پر ترغیب دلانا دراصل حقیقت سے فرار اور اس میں تحریف کرنے کے مترادف ہے جبکہ عالمی رائے عامہ امریکہ کو مشرق وسطی کے علاقے اور عالمی سطح پر بدامنی کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔