روس میں دہشتگردانہ واقعات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i277962-روس_میں_دہشتگردانہ_واقعات
 روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں زیر زمین ریلوے میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعے میں 12 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۲:۲۸ Asia/Tehran
  • روس میں دہشتگردانہ واقعات

 روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں زیر زمین ریلوے میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعے میں 12 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔

 روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں زیر زمین ریلوے میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعے میں بارہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے ہیں۔ بعض قیاس آرائیاں یہ کی جارہی ہیں کہ ان دہشتگردانہ بم دھماکوں کے پیچھے مغربی  اینٹلی جنس ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ چیچنیا کے علیحدگی پسند جو روس سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں وہ ماضی میں اس طرح کے دہشتگردانہ واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے  رہے ہیں  اور ماسکو بھی مغرب کی اینٹلی جنس ایجنسیوں کو اس طرح کے واقعات میں ملوث قراردیتا رہا ہے ۔دوسری طرف سے سینٹ پیٹرزبرگ کے بم دھماکے ولادیمیرپوتین اور بلاروس کے صدر لوکاشنکو کی ملاقات کے وقت ہوئے ہیں۔ یہ ملاقات روس اور الیگزینڈر لوکاشنکو کے درمیان دونوں ملکوں کے اتحاد کے معاہدے کی سالگرہ کے موقع پر ہوئی تھی۔ یاد رہے دونوں صدور مشرقی یورپ کی طرف نیٹو کے پھیلنے اور امریکہ کی فوجی تقویت کے مخالف ہیں۔یوکرین یورپ کے مشرق میں واقع ہے اور امریکہ نے اس ملک میں مغرب کی کٹھ  پتلی حکومت کو برسر اقتدار لانے کے لئے روس پر دباؤ ڈالا ہے لیکن روس نے یوکرین سے جزیرہ نمائے کریمہ کو الگ کرکے اس کا الحاق کرلیا ہے۔ یوکرین کے بحران کے بعد امریکہ اور نیٹو نے روس پر دباؤ ڈالنے کے لئے مشرقی یورپ میں اپنی افواج کی تقویت کی ہے لیکن روس نے بھی اسی طرح کے اقدامات کئے ہیں۔واضح رہے یہ بم دھماکے ایسے عالم میں ہوئے ہیں کہ حال ہی میں الیکسی ناوالنی کی قیادت میں روس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔الیکسی ناوالنی مغرب نواز سیاسی رہنما ہیں، صدر پوتین نے کہا ہے کہ یہ مظاہرے مغرب کی حمایت سے ہوئے ہیں جن کا ہدف رنگین انقلاب لانا تھا۔ روس کے مخالف لیڈر کی گرفتاری کے بعد امریکہ اور یورپی ملکوں نے ان کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر پوتین کی مقتدارانہ پالیسیوں اور دنیا کے اکثر علاقوں میں امریکہ کی یکہ تازی کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے سے امریکہ اور یورپی یونین کی ناراضگی سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ کے بم دھماکوں میں مغربی ملکوں کی اینٹلی جنس ایجنسیاں ہی ملوث ہیں ۔

 ادھر اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ نکّی ہیلی کا بیان بھی قابل غور ہے جنہوں نے کہا ہے کہ روس پر دباؤ ڈالا جائے تا کہ وہ ایران کو مشرق وسطی میں شام کے مسائل سے نکال لے  بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ ایران اور روس، شام میں  دہشتگردوں سے مقابلے کے سلسلے میں کامیاب ہیں ۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ  مغرب بالخصوص امریکہ نے شام کے صدر بشار اسد کی حکومت گرانے کے لئے دہشتگردوں کی حمایت کی پالیسی اپنا رکھی ہے لیکن مغرب کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کی شکست فاش سے ان کے حامیوں کی بھی بری طرح تحقیر ہوئی ہے۔ مغرب کی پریشانی اس وقت زیادہ بڑھ گئی تھی جب روس نے شمالی افریقہ کے ملک لیبیا میں بھی دہشتگردی سے مقابلہ کے لئے اپنی طاقت میں اضافہ کیا۔ مغرب کو اس پر بھی ناراضگی ہے۔ ایسے حالات میں مغرب اور روس کے درمیاں زور آزمائی جاری ہے امریکہ اور یورپی یونین نے روس کو اپنے داخلی انتخابات میں مداخلت کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر نئی پابندیاں لگادی ہیں لیکن روس نے امریکہ اور یورپی یونین کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

ایسے عالم میں جبکہ مغرب کو تمام راستے اپنا کر بھی اپنے طاقتور رقیب کو اپنی توسیع پسندانہ  پالیسیوں کا ہمنوا بنانے میں ناکامی ہوئی ہے لہذا بعید نہیں ہے کہ داعش جیسے دہشتگرد گروہ جس نے بارہا روس کو دھمکیاں دی ہیں روس میں تخریبی کارروائیاں کرسکتا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود یہ لگتا ہے کہ روس میں دہشتگردانہ واقعات سے مقابلہ کرنے  کا عزم پختہ ہوا ہے تا کہ وہ دہشتگردوں سے مقابلہ اور ان کے بیرونی حامیوں کے سامنے ڈٹ جائے۔