شمالی کوریا کا میزائل تجربہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278092-شمالی_کوریا_کا_میزائل_تجربہ
خبری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا نے ایک اور بیلسٹیک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے سینپو کے ساحلی علاقے سے بحیرہ جاپان کی طرف بیلسٹیک میزائل داغا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۴ Asia/Tehran
  • شمالی کوریا کا میزائل تجربہ

خبری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا نے ایک اور بیلسٹیک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا نے سینپو کے ساحلی علاقے سے بحیرہ جاپان کی طرف بیلسٹیک میزائل داغا ہے۔

شمالی کوریا نے میزائل تجربہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جین پینگ کی ملاقات کے موقع پر انجام دیا ہے۔ چین اور امریکہ کے صدور کی ملاقات فلوریڈا میں ہونے والی ہے۔ شمالی کوریا نے ایسے موقع پر میزائل تجربہ کرکے چین اور امریکہ دونوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ شمالی کوریا کی سکیورٹی پر کوئی معاملہ نہیں کیا جاسکتا ۔

ٹوکیو میں نیکسیال تحقیقاتی مرکز کے مبصر لانس گتلینگ کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربے علاقے میں توازن بگاڑسکتے ہیں کیونکہ شمالی کوریا اپنے نئے میزائلوں میں جامد ایندھن اور نہایت پیشرفتہ ٹکنالوجی استعمال کررہا ہےاس کے علاوہ ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربے ڈونالڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد کہ امریکہ اکیلے ہی شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں اترسکتا ہے نہایت اہمیت اختیار کرگئے ہیں ۔

جزیرہ نمائے کوریا اور مشرقی  ایشیا کے حالات پر ایک نگاہ ڈالنے سے شمالی کوریا کے میزائل تجربوں کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ امریکہ اس علاقے میں ہر طرح سے اپنی افواج کی تقویت کررہا ہے جس کو شمالی کوریا اپنی قومی سکیورٹی کے لئے نہایت خطرناک سمجھتا ہے۔ جنوبی کوریا میں امریکی میزائل شیلڈ تھاڈ کی تنصیب جس پر چین نے شدید احتجاج کیا ہے اورہر سال امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی متعدد فوجی مشقیں یا جنوبی کوریا اور جاپان کی دو طرفہ فوجی مشقیں اس بات کا باعث بنی ہیں کہ جزیرہ نمائے کوریا کے حالات کشیدہ ہوجائیں ۔

جاپان میں امریکہ کے اسپیرو نامی جنگی طیاروں نیز جنوبی کوریا میں خطرناک میزائیلوں کی تعیناتی کی بنا پر شمالی کوریا بھی اپنی ڈیٹیرینٹ طاقت میں اضافہ کررہا ہے لھذا یہ پہلی بار نہیں ہے شمالی کوریا نے بیلسٹیک میزائل تجربہ کیا ہے اور یہ تجربہ چین اور امریکہ کے صدور کی ملاقات سے بھی تعلق نہیں رکھتا ہے البتہ شمالی کوریا نے اپنے تازہ میزائل تجربہ سے امریکہ کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہےکہ اگر اسکی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کے نہایت ہی خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ بعض مغربی حلقوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل تجربے اس وجہ سے کئے ہیں کہ وہ اپنے علاقے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے اور اس طرح سے علاقائی اور عالمی امداد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ہرچند شمالی کوریا جاپان اور جنوبی کوریا کی نسبت ضعیف معیشت کا حامل ہے لیکن اس نے عملا یہ ثابت کردکھایا ہے کہ کہ وہ اپنی شان اور قومی اقتدار پر کسی طرح کا سودا نہیں کرے گا اور اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ امریکہ اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے سہارے جزیرہ نمائے کوریا پر مکمل قبضہ کرلے۔ شمالی کوریا نے چھے فریقی مذاکرات میں شریک ہوکر نیز اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے کی قرارداد پر دستخط کرکے جزیرہ نمائے کوریا کے بحران کو مفاہمت آمیز طریقے سے حل کرنے کے لئے اپنی نیک نیتی ظاہر کردی ہے لیکن امریکہ نے چھے فریقی مذاکرات کو ناکام بنا کر یہ ظاہر کردیا کہ وہ شمالی کوریا کا ایٹمی اور میزائلی مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس بحران سے محض ایک حربے کی حیثیت سے استفادہ کرنا چاہتا ہے تا کہ جزیرہ نمائے کوریا اور مشرقی ایشا میں اپنی فوجی برتری قائم رکھ سکے اور چین کا محاصرہ کرسکے۔

بہرحال امریکی اور چینی صدور کی مجوزہ ملاقات کے موقع پر شمالی کوریا کا میزائل تجربہ اس پیغام کاحامل ہے کہ جزیرہ نمائے کوریا کا بحران صرف امریکہ کی فوجی موجودگی میں کمی آنے اور امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کے راستے ہی حل ہوسکتا ہے اور علاقائی ممالک حتی کہ چین کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شمالی کوریا کی قومی سلامتی اور اقتدار اعلی کو اپنے اختلافات کی بھینٹ چڑھائیں۔