خلیج فارس میں دوبارہ برطانیہ کی سامراجی کوششیں
برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مئے یہ کوشش کر رہی ہیں ایران کے خلاف پروپگینڈے کرنے میں امریکہ سے پیچھے نہ رہیں۔
گزشتہ چند دنوں میں امریکی حکام نے ایران کے خلاف لفاظی کرکے خلیج فارس کے علاقے میں ایران کے خلاف امریکی عربی اتحاد کی باتیں کی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں اقدامات میں تیزی لائی گئی۔ انہوں نے علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی بات کہی۔ ادھر اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے دعوی کیا ہے کہ ایران دہشت گردی کا بنیادی ترین بانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی چیز ہے جس سے ہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور علاقے میں عربی اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اب اسی طرح کی لفاظی برطانوی وزیر اعظم کی زبانی بھی سنی جارہی ہے۔
ذرائع ابلاغ نے بدھ کے روز ایران کے خلاف تھریسا مئے کے بیانات شایع کئے تھے اور ان بیانات کو عالمی برادری کے مفادات کے خلاف اور امن و صلح قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹیں قراردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں میں ایران کی مداخلت کے مقابلے میں عرب ملکوں کی حمایت کرتی ہیں۔ تھریسا مئے نے علاقے میں ایران کی سرگرمیوں کو عدم استحکام کا سبب قراردیا اور گستاخی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے مخاصمانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے اجتماعی طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے یہ لفاظیاں سعودی عرب کے دوسرے دورے میں آل سعود کے حکام سے ملاقاتوں میں کی ہیں۔ تھریسا مئے کا سعودی عرب کا دورہ متعدد اھداف و مقاصد کا حامل ہے جن میں اہم ترین ھدف علاقے میں برطانیہ کی واپسی کے عمل کو وہ بھی خلیج فارس کے عرب ملکوں میں امریکہ کے ساتھ رقابت کے تناظر میں یقینی بنانا ہے۔دوسری طرف سے برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں سے اس کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں توسیع آئے۔ برطانوی وزیر اعظم اس بات کی خواہاں ہیں کہ یورپی یونین سے جدا ہونے کی وجہ سے جو نقصان ہوگا اس کا تدارک خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ہاتھوں اسلحہ فروخت کرکے کریں۔
اس بات کی توقع ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ تھریسا مئے جو کئی صدیوں کی سامراجیت کے جذبات سے سرشار ہیں وہ علاقے میں موقعوں کو ہاتھ سے جانے دیں گی اور اپنے دیگر رقیبوں سے پیچھے رہیں گی۔البتہ سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر عرب ممالک نے اپنے پٹرو ڈالروں کو پانی کی طرح خرچ کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ کی بھرپور پذیرائی کی ہے اور ان ملکوں کے لئے یہ موقع نہایت ہی سنہری موقع ہے تاکہ وہ اپنے اھداف حاصل کرسکیں لہذا اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عالمی لٹیرے بزعم خویش علاقے میں ایران کے خلاف کوئی اتحاد تشکیل دیدیں۔
قابل ذکر ہے سعودی عرب اور علاقے کی کچھ سست بنیاد حکومتوں نے اس طرح کے اتحادوں سے امیدیں باندھ رکھی ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں اس طرح کے موھوم اتحادوں کے سائے میں تحفظ مل جائے گا۔
یاد رہے سعودی عرب جیسے ممالک ایسے دیو کی مانند بن چکے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے اپنے اعضا کاٹ رہا ہو ایسے ملکوں کو بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ یہ بات بھی یاد رہے کہ امریکہ اور برطانیہ کو سعودی عرب جیسے ملکوں کی کوئی فکر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے مفادات کی فکر میں ہیں اسی وجہ سے ان کو صدام، حسنی مبارک یا قذافی جیسے حکمرانوں کےانجام سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور وہ ان کے استعمال کی تاریخ کے ختم ہوتے ہی ان کی بساط لپیٹ دیں گے۔