بنگلادیش کی وزیر اعظم کا دورہ ہندوستان
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278414-بنگلادیش_کی_وزیر_اعظم_کا_دورہ_ہندوستان
بنگلادیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد چار روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچی ہیں۔ نئی دہلی میں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر  ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا استقبال کیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۰:۲۳ Asia/Tehran
  • بنگلادیش کی وزیر اعظم کا دورہ ہندوستان

بنگلادیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد چار روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچی ہیں۔ نئی دہلی میں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر  ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا استقبال کیا۔

بنگلادیش کی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان کا یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان اور بنگلادیش کے حکام دوطرفہ تعاون میں فروغ لانے میں پر عزم ہیں۔ بنگلادیش جو ہندوستان اور پاکستان کے بعد جنوبی ایشیا کا سب سے اہم ملک شمار ہوتا ہے تقریبا ہندوستان کی سرحدوں سے گھرا ہوا ہے۔ بنگلادیش میں دو بڑی پارٹیاں ہیں۔ ایک خالدہ ضیاء کی بنگلادیش نیشنلٹ پارٹی ہے جبکہ دوسری شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ ہے ان میں ہر ایک پارٹی ہندوستان اور چین کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔ان پارٹیوں میں جوبھی برسر اقتدار ہو اس کا جھکاو یا ہندوستان کی طرف ہوتا ہے یا پھر چین کی طرف ہوجاتا ہے۔

اس وقت بنگلادیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت ہے اور انہوں نے فوج کی حمایت سے اقتدار سنبھال رکھا ہے۔ وہ ہندوستان کے ساتھ تعاون کی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔ اس بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ بنگلادیش اور ہندوستان کے درمیان تجارت کی شرح ساڑھے چھے ارب ڈالر پہنچ چکی ہے۔ جس میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر بنگلادیش کے لئے ہندوستان کی برآمدات سے متعلق ہیں۔ دونوں ملک جنوبی ایشیا کی اقتصادی تعاون تنظیم سارک کے رکن ہیں۔ یہ  ایک ایسی تنظیم ہے جس میں ہندوستان اور پاکستان کے اختلافات اس کے ارکان کے باہمی تعاون کی توسیع میں  رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے جنوبی ایشیا کے ممالک یہ کوشش کرتے ہیں کہ دو طرفہ طور پر خاص طور سے ہندوستان سے اپنے تعلقات کو فروغ دیں اور ہندوستان کی سرمایہ کاری اور ٹکنالوجیکل برتری سے استفادہ کریں۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اپنے اس دورہ ہندوستان میں تعاون کے بیس معاہدوں پر دستخط کریں گی۔یہ معاہدے سائنس و ٹکنالوجی، سائبر سکیوریٹی، دفاع، تجارت اور نقل و حمل میں سرمایہ کاری کے تعلق سے ہیں۔ واضح رہے نریندر مودی کی حکومت نے  ہندوستان اور بنگلادیش کے درمیان تقریبا چار ہزار کلومیٹر کی سرحدوں کے تعلق سے اختلافات حل کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں  اور دونوں ملکوں نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات حل کرنے کا پختہ عزم رکھتے۔ اسی سلسلے میں بنگلادیش توقع رکھتا ہےکہ ہندوستان کے ساتھ اس کے سکیوریٹی اور فوجی تعلقات میں فروغ آئے گا۔ بنگلادیش نے  ہمیشہ سے ہندوستان کی حکومت سے چاہا  ہے کہ اسے فوجی ساز و سامان اور راڈار سسٹم فروخت کرے تا کہ وہ ان سے اپنے فوج کو لیس کرکے اپنی سرحدوں پر امن قائم کرسکے اور مشترکہ سرحدوں سے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے آنے جانے کا راستہ روک سکے۔ اسی امر کے پیش نظر شیخ حسینہ واجد کے دورہ نئی دہلی میں ہندوستان سے ہتھیاروں کی خریداری کے سلسلے میں دو مفاہمتی نوٹوں پر دستخط کئے جائیں گے۔

دراین اثنا ہندوستان کے انٹلیجنس ادارے 'را' اور بنگلادیش کی انٹلیجنس ایجنسی کے درمیان تعاون سے علاقے کے ملکوں کو تشویش لاحق ہوسکتی ہے۔ بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے ساتھ ڈھاکہ حکومت کا رویہ اور اس جماعت کے رہنماوں کو پھانسی کی سزا دینے سے  پاکستان میں یہ تاثر قائم ہوچکا ہے کہ ڈھاکہ حکومت  ہندوستان کے دباؤ میں آکر بنگلادیش کی سب سے بڑی اسلامی پارٹی یعنی جماعت اسلامی سے مقابلہ کررہی ہے اور اس کو سیاسی میدان سے نکال دیا ہے۔یاد رہے جماعت اسلامی کے رہنماوں کو بنگلادیش کی جدوجہد آزادی کے دوران جرائم ڈھانے کے الزام میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔اسلام آباد کی حکومت اس بات پر یقین کرتی ہے کہ ہندوستان، بنگلادیش کی علاقائی پالیسیوں میں پاکستان کو کمزور بنانےکا سبب بنا ہے اور جنوبی ایشیا کے ملکوں میں اختلافات کا باعث ہے۔ ادھر ہندوستان کو یہ تشویش لاحق ہےکہ بنگلادیش میں کہیں چین کا اثر ورسوخ نہ بڑھ جائے، اسی وجہ سے ہندوستان شیخ حسینہ واجد کی حکومت کو ضروری امداد دے کر ان کی پارٹی کو دیگر پارٹیوں کے مقابلے میں مضبوط بنانا چاہتا ہے۔