پاکستان اور آل سعود کے دوستانہ تعلقات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278428-پاکستان_اور_آل_سعود_کے_دوستانہ_تعلقات
پاکستان میں حزب جمعیت الاسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان ہی کے آشیرباد سے بہت سے انتہا پسند گروہ وجود میں آئے ہیں، سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور کی شرکت سے اپنی پارٹی کا جشن صد سالہ منعقد کیا ہے ۔یہ جشن پاکستان کے شہر پشاور میں منقعد کیا گیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۱:۰۲ Asia/Tehran
  • پاکستان اور آل سعود کے دوستانہ تعلقات

پاکستان میں حزب جمعیت الاسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان ہی کے آشیرباد سے بہت سے انتہا پسند گروہ وجود میں آئے ہیں، سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور کی شرکت سے اپنی پارٹی کا جشن صد سالہ منعقد کیا ہے ۔یہ جشن پاکستان کے شہر پشاور میں منقعد کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور صالح بن عبدالعزیز کا جو حرم کے نائب امام جماعت بھی ہیں اس جشن میں شرکت کرنا مذہبی امور میں سعودی عرب کے لئے پاکستان کی نہایت اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب نے گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کو بہت اہمیت دے کر وہابیت کی تبلیغ و ترویج کے لئے پاکستان کے مذہبی مدارس سے وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہے۔ اس موضوع سے ایسا لگتا ہےکہ پاکستانی حکومت بھی اس کی طرف مائل ہے۔ پاکستان میں مذہبی مدارس کی تعداد بیس  ہزار تک پہنچتی ہے اور یہ سارے مدرسے جمعیت علماء اسلام کے مینجمینٹ کے تحت چل رہے ہیں۔ یاد رہے اس پارٹی کی دو شاخیں ایک کے سربراہ فضل الرحمان ہیں اور دوسری کے سمیع الحق ہیں۔

جمعیت علماء اسلام سعودی عرب کی مالی حمایت سے مذہبی مدرسوں کے علاوہ انتہا  پسند اور دہشتگرد گروہوں کو بالواسطہ طور سے ان کی سرگرمیوں کی زمین فراہم کرتی  ہے جن میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے نام سرفہرست ہیں، اسی وجہ سے پاکستان کی حکومت دہشتگردی سے مقابلے کے دعووں اور نعروں کے باوجود اپنے نعروں پر عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سے پاکستانی فوج اور آل سعود کے درمیان ہمیشہ سے بہترین تعلقات رہے ہیں۔یہ تعلقات  اتنے مستحکم ہیں کہ کہا جاتا ہےکہ سعودی عرب کے سلطنتی محافظوں میں ایک حصہ پاکستانی تشکیل دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں مزید بہتری اس وقت آئی جب مسلم لیگ ن نے اقتدار حاصل کرلیا کیونکہ پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف اور آل سعود میں خاندانی تعلقات ہیں۔ ان کو دوبارہ اقتدار بھی امریکہ اور آل سعود کی حمایت ہی سے حاصل ہوا ہے۔پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف اور ان کے اھل خانہ تقریبا نو برسوں تک آل سعود کے مہمان تھے۔ اسی وجہ سے آل سعود کے حکام بغیر سرکاری پروٹوکول کے پاکستان پہنچ جاتے ہیں اور انہوں نے پاکستان  کو پورے علاقے اور دنیا میں انتہا پسندی کا مرکز بنا رکھا ہے۔ اس وقت حزب جمعیت اسلامی ف حکومت نواز شریف کی حمایت کرتی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں سعودی عرب کے سیاسی اور مذہبی گروہوں کا مثلث مکمل ہوچکا ہے۔ مغربی حکام کا کہنا ہےکہ سعودی عرب ساری دنیا میں دہشتگردوں کی حمایت کرکے ان کی ھدایت کررہی ہے اور پاکستان میں مذہبی مدارس دراصل ان دہشتگرد گروہوں کے لئے افرادی قوت فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان کی حزب جمعیت علماء اسلام (ف) کے جشن صدسالہ میں سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور کی شرکت اسی تناظر میں قابل غور ہے۔ جنگ یمن میں سعودی عرب کے خود ساختہ اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے بعد سعودی وزیر برائے مذہبی امور کا پاکستان کا دورہ کرنا بھی قابل غور بات ہے۔ ایسے عالم میں پاکستان کے عوام کی  اکثریت، سیاسی اور مذہبی شخصیتیں اور ریٹائر فوجی جرنیل حکومت اسلام آباد کے اس اقدام کے مخالف ہیں تاہم سعودی وزیر مذہبی امور کا دورہ اسلام آل سعود کی جانب سے نواز شریف حکومت اور فوج کی بھرپور حمایت کے اعلان کے معنی رکھتا ہے۔بہرحال حزب جمعیت اسلام ف کا جشن صدسالہ ایسے عالم میں ملکی اور غیر ملکی شخصیتوں کی شرکت سے منعقد ہوا ہے کہ پاکستان کے عوام بالخصوص مذہبی طبقے کا کہنا ہے کہ یہ جشن کوئی سادہ سا سالانہ جشن نہیں ہے بلکہ ایک پلیٹ فارم ہے جس سے پورے پاکستان میں وہابی گروہ پھیل جائیں گے اور فرقہ واریت اور آخر کار تشدد اور دہشتگردی میں تیزی آجائے گی۔