عراق میں ترکی کی مداخلتیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278442-عراق_میں_ترکی_کی_مداخلتیں
عراقی حکومت نے ترک وزیر خارجہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو عراق کے اندر فوجی کاروائیاں انجام دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے عراق میں فوجی کارروائیاں کرتا رہے گا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۲:۱۷ Asia/Tehran
  • عراق میں ترکی کی مداخلتیں

عراقی حکومت نے ترک وزیر خارجہ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو عراق کے اندر فوجی کاروائیاں انجام دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے عراق میں فوجی کارروائیاں کرتا رہے گا۔

اس بیان کے بعد عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی نے کہا کہ ان کے ملک کو توقع ہے کہ ترکی موصل کی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے فوجی بھی عراق سے نکال لے گا۔ گذشتہ سال ترک وفد کے عراق کے دورے میں بعشیقہ میں ترک فوجیوں کی موجودگی کے مسئلے کا جائزہ لیا گیا اور یہ اتقاق کیا گیا تھا کہ ترکی کے فوجی  موصل کو آزاد کرانے کی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ عراق سے خارج ہوجائیں گے اور اب عراقی حکومت ترکی کے اپنے وعدے پرعمل کرنے کی منتظر ہے۔

ترکی کے تقریبا دو ہزار فوجی موصل کو آزاد کرانے کے بہانے سے عراق کے کرد علاقے بعشیقہ کے ایک فوجی اڈے پر قابض ہیں اور یہاں پر کرد ملیشیا کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ جس طرح سے عراقی حکام نےبارہا کہا ہے کہ عراق سے انخلا کرنے کا ترک فوجیوں کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ ایسا نہیں لگتا ہے کہ حکومت انقرہ عراق کے علاقے بعشیقہ سے اپنے فوجی نکالے گی۔ترکی اپنے اطراف منجملہ عراق میں اپنا اثر ورسوخ قائم کرنا چاہتا ہے اور بحران سازی سے خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ترکی نے شمالی عراق میں ارضی دعوے کرکے بعشیقہ میں اپنے فوجی تعینات کردئے ہیں اور دیگر ملکوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کرکے تسلط پسند طاقتوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کررہا ہے۔ ترکی نے ایسے عالم میں اس غلط اسٹریٹیجی پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے کہ اس سے پہلے اس نے اپنے ہمسایہ ملکوں سے کشیدگی کے خاتمے کی  پالیسی اپنائی تھی جس سے علاقے اور ہمسایہ ملکوں میں ترکی کی ساکھ بہتر ہوگئی تھی لیکن ترکی کی حالیہ پالیسیوں سے علاقے منجملہ عراق میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات خراب ہوئے ہیں اور علاقائی سطح پر اس کی ساکھ بھی خراب ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر ترکی کے ساتھ اختلافات ختم کرنے کی عراق کی کوششوں کے باوجود ترک حکام نے بغداد کے خلاف اپنی معاندانہ پالیسیاں ترک نہیں کی ہیں۔ ترکی حکام کی مہم جوئی پر مبنی پالیسیاں ان کے دعووں سے بھی مطابق نہیں رکھتی ہیں جو وہ علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے اور دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کےسلسلے میں کرتے رہتے ہیں۔ انقرہ کی خارجہ پالیسی علاقے میں کشیدگی اور بحرانوں کا سبب بنی ہے جبکہ عراق میں اس کی فوجی کاروائیوں سے سب سے زیادہ نقصان عراقی عوام کو ہوا ہے۔ اسی بنا پر عراقی فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہےکہ ترک فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے دہشتگردوں سے موصل کو آزاد کرانے کے لئے فوجی آپریشن بھی پیچیدہ ہوگیا ہے۔

ان حالات میں عراق کے بعض حلقوں نے بعشیقہ علاقے میں ترک فوجیوں کو خبردار کیا ہے کہ ان فوجیوں کی موجودگی داعش کے خطرے سے کم نہیں ہے اور ایک طرح سے جارحیت ہے۔عراق میں ترکی کی مداخلتوں پر وسیع پیمانے پر ردعمل سے ظاہر ہوتا ہےکہ عراق کے تعلق سے انقرہ کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ علاقے میں ترکی کی فوجی سرگرمیاں عراق سمیت دیگر ملکوں سے انقرہ کے تعلقات کے خراب ہونے کا سبب بنی ہیں اور ترکی کو ایک مہم جو، مداخلت پسند اور دہشتگردوں کے حامی ملک کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔