داعش کے بارے میں امریکہ کی متضاد پالیسی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278546-داعش_کے_بارے_میں_امریکہ_کی_متضاد_پالیسی
امریکی حکومت نے شام کے صوبۂ حمص میں واقع ایئر بیس پر میزائل حملے کے اڑتالیس گھنٹوں کے بعد دعوی کیا ہے کہ داعش کا مقابلہ کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۰:۲۸ Asia/Tehran
  • داعش کے بارے میں امریکہ کی متضاد پالیسی

امریکی حکومت نے شام کے صوبۂ حمص میں واقع ایئر بیس پر میزائل حملے کے اڑتالیس گھنٹوں کے بعد دعوی کیا ہے کہ داعش کا مقابلہ کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن (Rex Tillerson) نے سی بی ایس ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی اولین ترجیح شام میں حتی قیام امن سے قبل داعش گروپ کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش اور اس گروہ کی نام  نہاد خلافت کی شکست نہ صرف امریکہ مخالف خطرات ختم ہونے کا باعث بنے گی بلکہ خطے میں  امن کی برقراری میں بھی ممد و معاون ثابت ہوگی۔ یہ بیانات ایسے وقت دیئے گئے ہیں کہ جب امریکہ نے جمعے کی صبح داعش کا مقابلہ کرنے والے فوجیوں یعنی شامی فوجیوں کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا۔ شام کے فوجی گزشتہ چھ برسوں سے اپنے ملک میں داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ شدید ترین جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ امریکہ کے موجودہ صدر نے گزشتہ برس اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ شام فرنٹ لائن میں دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ روس اور ایران داعش کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں امریکہ سے زیادہ پر عزم ہیں۔ لیکن اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا عہدہ حاصل کر لیا ہے تو سابق امریکی صدر کی طرح انہوں نے بھی داعش کا مقابلہ کرنے کے بجائے خطے میں داعش مخالف حکومتوں کا مقابلہ شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ چھے برسوں سے شام، روس، ایران ، عراق اور حزب اللہ کا اتحاد دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کرتا چلا آ رہا ہے اور اس اتحاد نے خطے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی قیمت بھی چکائی ہے۔ حالانکہ اسی عرصےمیں امریکی حکام نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کی تقویت کی ۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے داعش کو وجود میں لانے کا حکم دیا تھا اور یہ گروہ امریکی حکام کی سیاسی، مالی اور اسلحہ جاتی امداد کے ساتھ عراق اور اس کے بعد شام میں مضبوط ہوا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کے سیکورٹی حکام کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر دہشت گرد گروہ داعش کے حملے کی پہلے سے اطلاع تھی لیکن انہوں نے بیس لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی والے اس شہر کے داعش کے ہاتھوں سقوط کی روک تھام کے لئے کوئی اقدام انجام نہیں دیا۔

دوسری جانب امریکہ کی سابق اور موجودہ حکومتوں نے ایسی حالت میں داعش کے مقابلے کا دعوی کیا ہے کہ جب داعش کے بعض اعلانیہ حامی مثلا سعودی عرب، قطر اور ترکی واشنگٹن کے اصلی ترین اتحادی شمار ہوتے ہیں۔ اس وقت شاید ہی کسی کو اس مسئلے میں شک ہو کہ سعودی عرب کے شہزادوں کے پیسے اور خلیج فارس کے جنوبی ساحلی عرب ملکوں کے ادارے ، کہ جو بظاہر رفاہی ادارے ہیں، دہشت گرد گروہ داعش کو نہیں دیئے گئے ہیں۔ دہشت گرد گروہ داعش عراق اور شام کے تیل کو غیر قانونی طور پر فروخت کرنے اور ترکی کے راستے سے دہشت گرد عناصر اور جنگی سازوسامان ان ممالک میں منتقل کرنے کے ذریعے اب تک اپنی جنگی طاقت کو برقرار رکھ سکا ہے۔  بلاشبہ اگر سعودی عرب کے شہزادے اس دہشت گردگروہ کو بے تحاشا دولت نہ دیتے اور ترکی اس گروہ کے ساتھ تعاون نہ کرتا تو دنیا کے مختلف حصوں سے جمع ہونے والے چند سو دہشت گرد عراق اور شام میں وسیع سرزمین پر قبضہ اور اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ یہ تمام کام امریکی سیاستدانوں، سیکورٹی حکام اور سفارتی اہلکاروں کی آنکھوں کے سامنے انجام پائے۔

جن طاقتوں نے داعش کا خوفناک جنّ جادو کی بوتل سے باہر نکالا ہے اب وہی طاقتیں اس کے مقابلے کا دعوی کر رہی ہیں اور داعش کا مقابلہ کرنے والوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ جب تک یہ متضاد پالیسی جاری رہے گی اس وقت تک مغربی ایشیا اور مغربی اقوام کے سروں پر داعش کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ چاہے امریکی وزیر خارجہ زبانی طور پر داعش کے مقابلے کو اپنے ملک کی اولین ترجیح ہی کیوں نہ قرار دیں۔