ایٹمی ٹیکنالوجی کا قومی دن بیس فروردین، خود اعتمادی کی علامت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278564-ایٹمی_ٹیکنالوجی_کا_قومی_دن_بیس_فروردین_خود_اعتمادی_کی_علامت
ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی باعث فخر کوششوں کی قدردانی اور اٹامک فیول سائیکل کی تکمیل کی بنا پر بیس فروردین مطابق نو اپریل کو ایٹمی ٹیکنالوجی کا قومی دن قرار دیا گیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۰ Asia/Tehran
  • ایٹمی ٹیکنالوجی کا قومی دن بیس فروردین، خود اعتمادی کی علامت

ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی باعث فخر کوششوں کی قدردانی اور اٹامک فیول سائیکل کی تکمیل کی بنا پر بیس فروردین مطابق نو اپریل کو ایٹمی ٹیکنالوجی کا قومی دن قرار دیا گیا ہے۔

ایٹمی ٹیکنالوجی کو خاص علوم اور ٹیکنالوجیز کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کا حامل ہونا بہت سے ممالک کی ہمیشہ سے آرزو رہی ہے۔ البتہ اس آرزو کے سلسلے میں بین الاقوامی خوف بھی چھایا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ بدگمانی کیوں وجود میں آئی ہے اور کونسے واقعات ایٹمی توانائی سے خوف کھانے کا باعث بنے ہیں؟ اس تشویش کے علل و اسباب کا پتہ لگانا کوئی بہت مشکل کام نہیں  ہے۔ جب امریکہ نے فتح حاصل کرنے کے لئے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بموں سے حملہ کیا تھا اسی وقت اس تشویش کی بنیاد پڑ گئی۔ اس کے بعد عالمی طاقتوں نے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے تحفظ کے لئے ضروری سمجھا ، پھر ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد بڑھانے کا مقابلہ شروع ہوگیا اور وحشت میں توازن پیدا کرنے کے لئے کی جانے والی سودے بازی ایٹمی میدان کے ایک اہم موضوع میں تبدیل ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے ہمیشہ خوف کھایا جاتا اور اس پر تشویش ظاہر کی جاتی ہے۔ خوف اس بات کا کہ یہ ٹیکنالوجی کہیں ایٹمی ہتھیاروں پر منتج نہ ہوجائے۔ اسی وجہ سے طاقتوں نے این پی ٹی معاہدے پر اتفاق کیا تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کی جا سکے حالانکہ خود ان ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ قدم بقدم ایٹمی ہتھیاروں میں کمی لائیں گے یہاں تک کہ یہ ہتھیار مکمل طور پر نابود ہو جائیں لیکن انہوں نے اپنے وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔ اکیسویں صدی میں ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اور ایٹمی ہتھیار رکھنے والی دوسری حکومتوں منجملہ صیہونی حکومت نے علانیہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں میں توسیع کے پروگرام کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے معنی بین الاقوامی عہد سے بے اعتنائی کے ہیں جس کے نتیجے میں ایٹم بموں کے استعمال کا خوف بڑھ رہا ہے۔ اسی وجہ سے این پی ٹی کی پابندی کرنے والے ممالک کو ایٹمی توانائی سے ہمکنار ہونے کے سلسلے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جب ایران نے دنیا والوں سے کہا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئےہے تو اس کے پروگرام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ، اس پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے اور اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں۔ بلاشبہ ان تمام رکاوٹوں سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن پرامن مقاصد کے لئے ایران کا ایٹمی پروگرام تمام تر خطرات، پابندیوں اور ایٹمی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود جاری رہا۔ ایرانی قوم کے دشمنوں نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ان کا مقصد ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا لیکن ایرانی قوم کی ثابت قدمی نے ان کی کوشش ناکام بنا دی اور اس ثابت قدمی کے نتیجے میں مشترکہ جامع ایکشن پلان کے دائرۂ کار میں ایران کے تمام ایٹمی حقوق تسلیم کر لئے گئے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد ایک قرارداد منظور کر کے ایران کے ایٹمی پروگرام منجملہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی پر مبنی اس کا حق تسلیم کر لیا۔

آج اسلامی جمہوریہ ایران کا نام ایٹمی ٹیکنالوجی کے حامل ممالک میں درج ہوچکا ہے اور ایران نے بڑے ایٹمی منصوبوں منجملہ بین الاقوامی ایٹمی تعاون اور  نیوکلیئر فیوژن (nuclear fusion) پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس باعث فخر اقدام کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار، ان میں توسیع اور اس کے استعمال کے حرام ہونے پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی کا اہم اور واضح فتوی ایک ایسا فتوی ہے جس نے دشمنوں کی بہت سی سازشوں کو ناکام بنادیا اور عالمی سطح پر ایک نیا افق کھول دیا۔