مصر میں دہشتگردانہ بم دھماکے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278686-مصر_میں_دہشتگردانہ_بم_دھماکے
مصر میں گذشتہ روز چار دہشتگردانہ بم دھماکوں میں دسیوں لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی  ہوئے ہیں۔ ان بم دھماکوں کے بعد مصر کی حکومت نے تین دن عام سوگ کا اعلان کیا ہے اور مصر کے صدر نے پولیس کی مدد کے لئے فوج بھیج دی ہے تا کہ ملک کے حساس علاقوں کی محافظت کرسکے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۱:۵۷ Asia/Tehran
  • مصر میں دہشتگردانہ بم دھماکے

مصر میں گذشتہ روز چار دہشتگردانہ بم دھماکوں میں دسیوں لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی  ہوئے ہیں۔ ان بم دھماکوں کے بعد مصر کی حکومت نے تین دن عام سوگ کا اعلان کیا ہے اور مصر کے صدر نے پولیس کی مدد کے لئے فوج بھیج دی ہے تا کہ ملک کے حساس علاقوں کی محافظت کرسکے۔

 

مصر میں گذشتہ روز چار دہشتگردانہ بم دھماکوں میں دسیوں لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی  ہوئے ہیں۔ ان بم دھماکوں کے بعد مصر کی حکومت نے تین دن عام سوگ کا اعلان کیا ہے اور مصر کے صدر نے پولیس کی مدد کے لئے فوج بھیج دی ہے تا کہ ملک کے حساس علاقوں کی محافظت کرسکے۔

پہلا بم دھماکہ شہر طنطا میں جو قاہرہ کے شمال میں ہے ہوا یہ بم دھماکہ ایک کلیسامیں ہوا۔ اس کلیسا کی قدمت اسی سال ہے اور یہ طنطا کے تاریخی مقامات میں شامل ہے۔ مارجریس کلیسا فواد اول کے حکم سے بنایا گیا تھا اور مصر میں مسلمانوں اور قبطیوں کی مفاہمت آمیز زندگی کی علامت ہے۔

دوسرا بم دھماکہ پولیس کے ایک ٹریننگ سنٹر میں ہواجبکہ تیسرا بم دھماکہ المرقسیہ کلیسا میں ہوا۔یہ بم دھماکہ صوبہ اسکندریہ میں ہوا اور چوتھا بم دھماکہ صوبہ سیناے شمالی کے التلول علاقے میں پولیس کی ایک گاڑی میں ہوا ہے۔

 ان بم دھماکوں میں ایک سو چالیس ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح قبطیوں کی عید جسے عید شعانین کہتے ہیں ایک روز سیاہ اور خونی دن میں تبدیل ہوگئی۔

مصر میں دوہزار گیارہ کی عوامی تحریک کے بعد اگرچہ یہ ملک مدتوں تک کشیدگی اور سیاسی لحاظ سے بدامنی کا شکار رہا ہے لیکن اس ملک میں بھی دہشتگردی بعض ملکوں کی طرح سے بنیادی مسئلے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اگرچہ مصر میں گذشتہ برسوں میں بہت سے دہشتگردانہ حملے ہوئے ہیں لیکن گذشتہ روز دہشتگردانہ حملوں میں کلیساوں کو نشانہ بنانا خطرے کی گھنٹے اور نہایت سنجیدہ انتباہ ہے۔ مصر میں تقریبا دس سے پندرہ فیصد عیسائی بستے ہیں اور انہیں مذہبی اقلیت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر جامعۃ الازھر کی وجہ سے عالم عرب کے علمی ثقافتی اور دینی مرکز کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے اور یہاں پر مختلف ادیان پرامن زندگی گذارتے تھے۔ گذشتہ برسوں کی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود بھی مصر میں حکومت اور عیسائی فرقے کے اتحاد میں اضافہ ہوتا دیکھا گیا اور تمام ادیاں باہم پرامن زندگی گذارتے پائے گئے۔ مصر میں یہ دہشتگردانہ واقعات اپنی نوعیت کے پہلے واقعات نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی فروری دوہزار پندرہ میں میں لیبیا میں اکیس قبطیوں  کے سرقلم کرنے کا ویڈیو منظر ‏عام پر آیا تھا۔ مارے جانے والے افراد میں زیادہ تر مصر کےرہنے والے تھے۔اس ویڈیو کے سامنے آنے کےبعد مصر اور ساری دنیامیں داعش کے خلاف نفرت کی لہر دوڑ گئی۔

مصر کے دو کلیساوں میں اتوار کو قبطیوں کی عید کے موقع پر ہونے والے بم دھماکے قبطیوں پر بڑا حملہ ہے۔ ان بم دھماکوں کی تمام مذاہب کے سربراہوں اور دیگر ملکوں نےمذمت کی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہےکہ ان بم دھماکوں کے اسباب کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینا چاہیے۔

آج کے حالات میں علاقے کے مسائل میں مصر کے موقف اور سعودی عرب کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے اس کے علاوہ مصری عدلیہ کی جانب سے تیران اور صنافیر نامی جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کی مخالفت کے پیش نظر مصر اور سعودی عرب کے درمیاں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہےکہ قاہرہ کے کلیسا میں ہونے والے بم دھماکے سعودی عرب کے لئے مطلوب ہوسکتے ہیں۔لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان دہشتگردانہ اقدامات کا ھدف مصر میں دینی اور مذہبی اقلیتوں کے درمیان خلیج بڑھانا ہے۔ اگر مصر میں دینی اور مذہبی اختلافات بڑھ جاتے ہیں تو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مصر میں افراتفری بڑھتی جائے گی اور اسے کنٹرول کرنا نہایت دشوار ہوجائے گا اوراس مسئلے سے مصر میں مغربی ملکوں کومداخلت کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اگرچہ مصر میں دہشتگردانہ بم دھماکوں نے قبطیوں کی عید کو خونی عید میں تبدیل کردیا ہے اور علاقے اور مصر میں خوف و رعب کی ایک فضا قائم کردی ہے لیکن مصری مسلمانوں اور بعض دیگر ملکوں کی جانب سے اس طرح کی امن و صلح کے خلاف انتہا پسندانہ کاروائیوں سے اعلان برائت کرنا ایک بار پھر اس امر پر تاکیدہے کہ اس طرح کے بزدلانہ اور دہشتگردانہ اقدماات شکست خوردہ ہیں۔