شام پر حملہ امریکہ کی اسٹریٹیجک غلطی
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے اعلی کمانڈروں نے نوروز کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوران شام پر امریکہ کی حالیہ جارحیت کا ذکرکرتے ہوئے اہم نکات بیان کئے جو اس واقعے کو سمجھنے کے سلسلے میں کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت ا للہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ جو کام امریکہ نے کیا ہے وہ ایک اسٹریٹیجک غلطی ہے اور امریکہ کے موجودہ حکام سابق امریکی حکام کی غلطیوں کو دوہرا رہے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ امریکہ کے سابق حکام نے داعش کو جنم دیا تھا یا اس کی مدد کی تھی اور موجودہ امریکی حکام داعش یا اس جیسے گروہ کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے ، کہ مستقبل میں امریکہ بھی ان گروہوں کے خطروں کی لپیٹ میں آجائے گا، فرمایا کہ یورپ نے تکفیریوں کی تقویت کرنے کی جو غلطی کی تھی وہ اس میں گرفتار ہوچکا ہے اور (یورپی) عوام اپنے گھروں اور سڑکوں پر امن سے محروم ہیں اور امریکہ بھی اسی غلطی کی تکرار کررہا ہے۔
امریکہ نے گذشتہ ہفتے شام کے صوبہ ادلب میں خان شیخون کے علاقے میں مشکوک کیمیاوی حملے کے بعد دمشق پر اس حملے کا کا الزام لگایا اور کہا کہ دمشق نے اپنے مخالفین پر کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ امریکہ نے شام پر جارحیت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کاحملہ کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے میں شام کی توانائی کم کرنے کے لئے تھا۔ ایسا دعوی جو نہایت بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ امریکہ ایسے عالم میں کیمیاوی ہتھیاروں سے مقابلہ کرنے والوں کی صف اول میں شامل ہوگیا ہے کہ اس کے سیاہ کارناموں میں انسانیت سوز کارروائیاں منجملہ عالمی مجرموں کے لئے کیمیاوی ہتھیار فراہم کرنا شامل ہے۔ ان میں سے ایک انسانیت سوز کارروائی عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کا مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران اور عراق کے عوام پر کیمیاوی بموں کا استعمال ہے ۔ صدام کی کیمیاوی بمباری میں ایران اور عراق کے ہزاروں شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔ آج بھی امریکہ کے گودام کیمیاوی، جراثیمی اور عام تباہی پھیلانے والے ہتیھاروں سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ بات بالکل بعید نہیں ہے کہ یہ ہتھیار ایک بار پھر انسانیت کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں۔ دراصل امریکہ پر حکمران جنگ پسند ٹولہ اپنے غیر انسانی جذبات کی بنا پر انسانیت کے خلاف کوئی بھی جرم ڈھا سکتا ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جس کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکہ ان ملکوں میں سے ہے جنہوں نے مسلط کردہ جنگ کے زمانے میں کیمیاوی ہتھیار صدام کو دیئے تھے ۔ ان جرائم میں یورپ کی ریاکار حکومتیں بھی شامل ہیں جو آج شام کے مسئلے میں دعوی کر رہی ہیں کہ کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے گئے ہیں ۔ مسلط کردہ جنگ کے زمانے میں صدام کو بے پناہ کیمیاوی ہتھیار دیئے گئے تھے تا کہ وہ ان ہتھیاروں سے ایران کے محاذوں اور سردشت اور حلبچہ جیسے علاقوں پر بمباری کرسکے۔
ان حقائق کے پیش نظر ان واقعات کے تجزیے میں کہنا چاہیے کہ شام پر امریکہ کے میزائلی حملے ایک ایسے وقت میں انجام پائے ہیں جب اقوام متحدہ جینوا مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہی تھی۔ اس نکتے پر توجہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ حملہ شام میں زیادہ سے زیادہ مداخلت کرنے کے لئے امریکہ کا ایک بہانہ ہے۔ دراصل امریکہ کی نظر میں ایک غیر متوقع شاک ہی شام کی صورتحال کو اس کے مدار سے خارج کرسکتا ہے لھذا امریکہ کا میزائل حملہ پہلے سے تیار شدہ ایک سازش کے تحت کیا گیا جو شام میں سیاسی مذاکرات کو فوجی راستے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہ اقدام رہبرانقلاب اسلامی کے نزدیک ایک اسٹریٹیجک غلطی ہے جس سے امریکہ ایک ایسے دلدل میں پھنس جائے گا کہ اس سے باہر آنا اس کے لئے آسان نہ ہوگا۔ امریکہ نے سوالوں کو جنم دینے والی اس مہم جوئی میں مداخلت کرتے ہوئے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ بدعت علاقے اور دنیا کے لئے نہایت خطرناک ہے اور اس کے نتائج بھی غیر متوقع ہوں گے۔