صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آغاز
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278794-صدارتی_انتخابات_کے_لئے_کاغذات_نامزدگی_جمع_کرانے_کا_آغاز
اسلامی جمہوریہ ایران میں آج سے صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آغاز ہوگیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۷ Asia/Tehran
  • صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آغاز

اسلامی جمہوریہ ایران میں آج سے صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آغاز ہوگیا ہے۔

امیدوار صدارتی انتخابات کے بارہویں دور کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی پندرہ اپریل تک جمع کروا سکتے ہیں۔ ایران میں صدارتی انتخابات جمعہ انیس مئی کو ہوں گے۔ اسی دن شہری اور دیہی کونسلوں کے انتخابات بھی ہوں گے اور پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات کا انعقاد بھی اسی دن عمل میں لایا جائےگا۔

ایران کا آئندہ صدر اہل قرار دیئے گئے امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا شخص ہوگا۔ اس بات کا امکان بھی پایا جاتا ہے کہ پہلے ہی مرحلے میں صدر کا انتخاب عمل میں آجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے مرحلے میں صدر کا انتخاب نہ ہوسکے اور نوبت دوسرے مرحلے تک  پہنچ جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنی تعداد میں امیدوار میدان میں آتے ہیں اور ان میں سے کونسا امیدوار اپنا جامع منصوبہ پیش کر کے  زیادہ ووٹ حاصل کرپاتا ہے۔  یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ عوام کو اپنے منتخب صدر سے کیا توقعات وابستہ ہیں اور کیا ڈاکٹر حسن روحانی دوسرے امیدواروں کا مقابلہ کر کے مزید چار سال کے لئے صدر کا عہدہ اپنے پاس رکھ سکیں گے؟

ایران میں صدارتی انتخابات کا بارہواں دور ایسی حالت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب ایرانی قوم کی آگے کی جانب چلنے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور اس قوم کو بہت سے اقتصادی مسائل اور خطرات کا سامنا ہے۔ اس لئے روزگار کی صورتحال کی بہتری، آمدنی میں اضافہ، معاشرے میں دولت کی مناسب تقسیم، پیداوار اور سرمایہ کاری کی حمایت جیسے امور ان انتخابات کا نتیجہ معین کرنے کے سلسلے میں بہت اہم کردار کے حامل ہیں۔ اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے لئے بدعنوانی کا بھرپور مقابلہ ، لوگوں کے اعتماد کی بحالی اور ان کے اندر محنت کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ صدارتی امیدوار ایسے قابل عمل منصوبے پیش کریں جو ان مشکلات کو حل کرسکتے ہوں۔ عوام صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والوں سے صرف زبانی جمع خرچ کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ وہ ان کی جانب سے عمل اور اقدام کے خواہاں ہیں۔ بلاشبہہ عوام اپنے منتخب صدر سے اقتصادی استحکام،  لوگوں کے اندر روشن مستقبل کی امید پیدا کرنے اور اسلامی جمہوری نظام کے شایان شان ایک اچھی زندگی کا راستہ ہموار کرنے جیسی توقعات رکھتے ہیں۔ فطری بات ہے کہ انتخابات میں عوام کی شرکت کا ایک محرک آئین کے دائرۂ کار میں ان کے مطالبات کا پورا کیا جانا ہے۔ منتخب امیدوار کو ووٹ دینے کے معنی اس پر اعتماد کرنے کے ہیں۔ یہ اعتماد اس بات کا متقاضی ہے کہ صدر کا عہدہ حاصل کرنے والا شخص تمام وسائل و امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے پلاننگ کے ساتھ عوام کی مشکلات حل کرے۔

صدر مملکت مجریہ کے سربراہ کی حیثیت سے انتظامی امور اور فیصلوں کی مینیجمنٹ کے سلسلے میں بہت حساس کردار کا حامل ہوتا ہے۔ اس لئے جب بھی نیا صدر اپنے کام کا آغاز کرتا ہے تو اقتصادی مسائل اور خارجہ تعلقات سے متعلق حکمت عملی اس کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی کا چار سالہ دور صدارت اب ختم ہونے والا ہے اور انہوں نے گیارہویں دور کے انتخابات کے موقع پر جو وعدے کئے تھے اب ان کی آزمائش ہونے والی ہے نیز لوگوں کو اب ان کے اس دور صدارت کے دوران ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا فیصلہ کرنا ہے۔

انتخابات کے اصل وارث اور مالک کی حیثیت سے ایرانی قوم اپنے منتخب صدر سے یہ توقع رکھتی ہےکہ وہ ایسے حالات فراہم کرے گا جن سے ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام کو تقویت پہنچے گی تاکہ ایک مربوط اور بامقصد منصوبے کے ذریعے پائیدار ترقی تک رسائی ممکن ہوسکے۔