یورپ میں دہشت گردی پھیلنے کی بابت انتباہ
یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی شعبے کے سربراہ ژیل دو کرکوف نے یورپی ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ ان ملکوں میں دہشت گردی پھیلنے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔
ژیل دو کرکوف نے کہا کہ یورپ کو صرف سرحدوں کے باہر سے ہی دہشت گردی کا خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ خود ملکوں کے اندر بھی یہ خطرہ موجود ہے۔ کرکوف نے سوشل نیٹ ورک کی وجہ سے دہشت گردی کے آسانی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں کو دہشت گردی کا سبب نہیں قرار دینا چاہئے بلکہ بہت سے یورپی باشندے شام اور عراق جیسے ممالک میں داعش کی صفوں میں شامل ہوگئے اور وطن واپسی پر خطرہ بن گئے ہیں۔ مغربی ممالک کے سینیئر حکام بہت ہی کم اپنے ملکوں کے اندر دہشت گردی کے خطرے کا اعتراف کرتے ہیں۔ یورپ کے سینیئر سیاسی رہنما اور ذرائع ابلاغ یورپی ملکوں میں ہر دہشت گردانہ حملے کے بعد فوری طور پر اور کوئی تحقیق انجام دیئے بغیر پناہ گزینوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ اس کے بعد پناہ گزینوں کے خلاف سخت گیر پالیسیاں اپنانا اور انہیں اذیت دینا شروع کردیتے ہیں۔انہیں زد و کوب کیا جاتا ہے اور طبی اور غذائی سہولتوں سے محروم کردیاجاتا ہے، یہاں تک کہ انہیں ملک سے نکالنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ یہ مہاجرین، جن میں بچے، بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں، شام، عراق، افغانستان اور لیبیا میں ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں ترک وطن کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ جنگیں اور یورپ کی طرف مہاجرت کی لہر مشرق وسطیˈ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے امور میں مغرب کی مداخلت نیز مغربی ممالک کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت اور جنگ پسندانہ پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ دوسری طرف چونکہ یورپ میں زیادہ تر پناہ لینے والوں کا تعلق مشرق وسطیˈاور شمالی افریقہ کے جنگ زدہ مسلم ملکوں سے ہے لہذا پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ یورپی ملکوں میں مقیم مسلمانوں پر بھی دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں جس سے ان کی زندگی سخت اور دشوار ہوگئی ہے۔ بعض یورپی ملکوں میں انتخابات کے پیش نظر سختیوں میں مزید شدت آگئی ہے۔ یورپ کے سیاسی رہنما، ذرائع ابلاغ اور دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹیاں اس صورت حال سے غلط فائدہ اٹھا کر اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہی ہیں نیز مسلمان مہاجرین کے خلاف نفرت پھیلا کر اسلام مخالف اقدامات انجام دے رہی ہیں۔
دریں اثنا کرکوف نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی پہلے مرحلے میں یورپی معاشروں میں انتہا پسندانہ نظریات پھیلنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے خاص طور سے یورپی باشندوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو مشرق وسطیˈ اور شمالی افریقہ کی جنگوں میں شرکت کرکے اپنے اپنے ملک واپس آنے کے بعد خطرہ شمار ہوتے ہیں۔ البتہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح یہ افراد یورپ کے خفیہ اور سیکورٹی کے اداروں کی نگرانی کے باجود مشرق وسطیˈ اور شمالی افریقہ کی جنگوں میں شرکت کے لئے چلے گئے اور وطن واپسی پر اپنے ملکوں کے لئے خطرہ بن گئے؟
آج مغربی ایشیا میں مغرب کی جنگ پسندی اور اس علاقے کے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اس قدر آشکار ہوچکی ہے کہ سابق وزیر خارجہ جان کیری جیسے امریکی اعلیˈ عہدیداروں نے واضح طور پر اعتراف کیا تھا کہ واشنگٹن نے شام میں بشار اسد کی حکومت کی برطرفی کے مقصد سے دہشت گرد گروہ داعش کو وجود بخشا اور یورپ نے بھی اس میں حصہ لیا نیز اب مغرب کو دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہے جو خود اسی کا کیا دھرا ہے۔
ایسی حالت میں کہ دہشت گردی کا بحران مشرق وسطیˈ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے امور میں مغربی ممالک کی مداخلت اور جنگ بھڑکانے کا نتیجہ ہے تو اس بحران کے خاتمے کا دار و مدار بھی اس خطے میں مغرب کی مداخلت اور دہشت گردوں کی حمایت ختم کرنے پر ہی ہے۔ در حقیقت مغربی ممالک کو دہشت گردی کے خطرے سے اسی وقت نجات مل سکتی ہے جب وہ مغربی ایشیا کے ممالک کے داخلی امور میں اپنی مداخلت اور جنگ پسندانہ پالیسیوں پر عمل کرنا نیز دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کردیں۔