شام: ایران اور روس کے وزرائے دفاع کی گفتگو
اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے وزرائے دفاع نے شام کے حالات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس ٹیلی فونی گفتگو میں شام کے تازہ ترین جنگی حالات کا جائزہ لیا گیا اور دہشتگردوں کو مزید ضرب لگائے پر تاکید کی گئی۔
ایران کے وزیر دفاع جنرل حسین دہقان اور روس کے وزیر دفاع جنرل سرگئی شویگو نے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ نے امریکہ میں سیاسی سطح پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے اور داخلی مشکلات سے امریکی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے شام پر حملے کئے ہیں۔ روسی وزیر دفاع نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں جنرل دہقان کی بات کی تائید کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف شام کی فوج اور عوامی فورسز کی تقویت کی ضروررت پر تاکید کی۔ روسی وزیر دفاع نے کہا کہ روس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سیاسی اور فوجی میدانوں میں دہشتگردوں کو کاری ضربیں لگائے گا اور ان کے لئے عرصہ حیات تنگ کردے گا۔ واضح رہے امریکہ نے جمعے کی صبح میں شام پر بغیر کسی ثبوت و شواہد کے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اس نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں شام کے ادلب صوبے میں الشعیرات ایئربیس پر میزائل حملے کئے تھے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہےکہ امریکہ نے اسٹراٹیجیک اھداف کے تحت یہ اقدام کیا ہے ۔ دہشتگردوں کے شکست خوردہ اور پست حوصلوں کو بلند کرنے کی کوشش کرنا بھی ان کا ایک ھدف ہے۔ دہشتگردوں کے ہاتھوں سے حلب کے آزاد کرائے جانے کے بعد شام کے سیاسی اور فوجی نیز جنگ کے حالات میں تبدیل آئی ہے اور شام کا بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں شام کے گروہوں کے مذاکرات کی زمین ہموار ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ بھی ان مذاکرات کی حمایت کررہا ہے۔ یہ مذاکرات ایران شام اور ترکی کی حمایت سے، جنہوں نے بیس دسمبر دوہزار سولہ کو ماسکو میں ایک بیان جاری کیا تھا، شروع ہوئے تھے۔ اس جدت عمل سے شام میں امریکہ کی مداخلت کرنے کی توانائیاں کم ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ اور شام کے دیگر مخالفین کے بے اثر موقف سامنے آئے ہیں۔ شام پر میزائل حملہ کرنے کے امریکہ کے اسٹراٹیجیک اھداف پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اس سے اپنے داخلی سیاسی حالات کے سلسلے میں استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح سے کہ ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اس حملے کو داخلی سطح پر ٹرمپ کی بگڑی ہوئی ساکھ کو سدھارنے کی کوشش قراردیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی مقبولیت کم ہوتی جارہی ہے۔لیکن روس کے رد عمل اور بہت سے ملکوں کی جانب سے کمزور رد عمل اور بعض ملکوں کی جانب سے اظہار تشویش کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اپنے اس اشتعال انگیز اقدام سے اپنے اھداف حاصل نہیں کرسکا ہے۔ روس نے شام پر امریکہ کے میزائل حملے کے تعلق سے خاص تدبیریں اپنا کر امریکہ کو کشیدگی جاری رکھنے کا موقع نہیں دیا اور ہوشیاری اور سکون سے حالات کو کنٹرول کیا۔ یہ موضوع ایران، روس اور شام کے بیان میں بھی قابل غور تھا۔ شام میں ایران، روس اور شام مشترکہ کنٹرول روم نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ اتحاد شمالی شام اور شمال مغربی شام میں امریکہ کے اھداف سے غافل نہیں ہے اور امریکہ کے تمام اقدامات کا نزدیک سے جائزہ لے رہا ہے۔ شام پر میزائل حملہ کرنے میں امریکہ کی اسٹراٹیجیک غلطی یہ تھی کہ اس نے خان شیخوں کے واقعے کے بارے میں تحقیقات کرانے سے پہلے ہی یہ حملہ کردیا تھا، اب امریکہ کے لئے حالات کٹھن ہوگئے ہیں ۔ اگر خان شیخون کے واقعے کے بارے میں آزادانہ طور پر تحقیقات انجام دی جائیں تو واضح ہوجائے گا کہ اس سے پہلے کی رسوائیوں کی طرح اس رسوائی میں بھی دہشتگردوں کا ہی ہاتھ ہے۔ امریکہ کو اس رسوائی کی بابت بھی اسی طرح سے بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی جس طرح سے اس کے اور برطانیہ کے لئے عراق پر حملے کرنے میں رسوائی پیش آئی تھی بالخصوص اس وجہ سے بھی امریکہ ان ملکوں میں شامل ہے کہ جنہوں نے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ختم کرنے کے سلسلے میں ہرگز شفاف طریقے سے عمل نہیں کیا ہے۔ امریکہ اور مجرم صیہونی حکومت نے عملی طور سے کیمیاوی ہتھیار نابود کرنے کی مخالفت کی ہے اور مختلف بہانوں سے کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے کنونشن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ امریکہ نے اسی طرح صدام کی حمایت کرتے ہوئے مسلط کردہ جنگ کے دوران کیماوی ہتھیار فراہم کئے تھے جن سے صدام نے ایران اور عراق کے کردستان کے علاقے حلبچے پر حملے کئے تھے۔