افغانستان، امریکی فوجی منصوبوں کا اڈا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i278910-افغانستان_امریکی_فوجی_منصوبوں_کا_اڈا
افغانستان میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا معرض وجود میں آنا امریکہ اور نیٹو کے لئے مناسب بہانہ بن گیا ہے تا کہ وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرسکیں ۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۲ Asia/Tehran
  • افغانستان، امریکی فوجی منصوبوں کا اڈا

افغانستان میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا معرض وجود میں آنا امریکہ اور نیٹو کے لئے مناسب بہانہ بن گیا ہے تا کہ وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرسکیں ۔

امریکہ نے اسی ہدف کے تحت دو سو تازہ دم فوجی جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں تعینات کئے ہیں اور طے پایا ہے کہ مزید ایک ہزار پانچ سو امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے کمانڈر جان نیکلسن نے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں مزید پانچ ہزار فوجی بھیجے جائیں۔ ادھر پاکستان میں امریکہ کے سیفر ڈیویڈ ہیل نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ سے ملاقات میں داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن رد الفساد کی  تعریف کی۔

ان حقائق کے  پیش ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان اور افغانستان میں نئے سرے اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لئے کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ یہ مسئلہ کئی لحاظ  سے قابل توجہ ہے۔ پہلے یہ کہ امریکہ علاقے میں افغانستان کو اپنا فوجی اڈا بنانا چاہتا ہے تاکہ اس ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی منتقلی کے لئے اپنا مرکز بنالے۔

دوسرے یہ کہ امریکہ چین اور حتی روس کو ان کی سرحدوں میں کنٹرول کرنا چاہتا ہے ۔ افغانستان کی اسٹراٹیجیک پوزیشن امریکہ کو یہ امکان فراہم کرتی ہے کہ وہ اس ملک میں اپنی فوجی پوزیشن مضبوط بناکر علاقے کے لئے افغانستان کو جاسوسی کے اڈے کے طور پر استعمال کرے۔ تیسری بات یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی سے روس اور چین بھی سکیورٹی اور فوجی لحاظ سے افغانستان میں آنے کے لئے فعال ہوجائیں گے۔

بعض رپورٹوں کے مطابق روس طالبان سے رابطے میں ہے اور اس گروہ کی حمایت کررہا ہے۔ اس سے یہ تشویش پیدا ہوگئی ہے کہ روس افغانستان میں بحران کو ہوا دینا چاہتا ہے۔اسی وجہ سے افغانستان میں بعض سیاسی گروہ روس اور طالبان کے سیاسی تعاون کے شدید مخالف ہیں۔ یاد رہے کہ روس کے سفیر نے طالبان اور روس کے تعاون کی تصدیق کی ہے۔

امریکہ افغانستان میں روس کی واپسی کی روک تھام کے لئے اور علاقے میں فوجی اور سکیورٹی لحاظ سے رقابتوں میں شدت لانے کی غرض سے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہےکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان میں امن قائم کرنے کو اپنی ذمہ داریوں میں سمجھتی ہے۔

یہ ایسے عالم میں ہے کہ دوہزار ایک سے دوہزار چودہ تک امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں ایک لاکھ تیس ہزار فوجی تعینات کررکھے تھے جنہوں نے نہ صرف افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ خود بدامنی کا ایک سبب بن گئیں۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے حال ہی میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بیرونی افواج  افغانستان میں مثبت کارکردگی رکھتیں تو داعش کو سرنہیں اٹھانا چاہیے تھا جبکہ داعش کا معرض وجود میں آنا افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کے لئے اپنی فوجیں بڑھانے کا بہانہ بن گیا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی امریکی کمانڈروں نے اعلان کیا تھا کہ داعش امریکی اور نیٹو کی افواج کا ھدف نہیں ہے۔

اس حقائق کے پیش نظر افغانستان میں امریکہ کی کارکردگی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ بحران کو اپنے حق میں موڑنا چاہتا ہے اوراس کے مد نظر اس ملک کے بحران کو حل کرنا نہیں ہے کیونکہ اگر امن قائم ہوجائے تو امریکہ کے پاس اپنے فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں رہےگا۔پاکستان کے بارے میں بھی امریکہ نے جارج بوش کے زمانے میں پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی قرار دیا تھا اور لیکن دنوں کے بعد اسلام آباد پر افغانستان میں دوہرے رویئے اور طالبان کی حمایت کا الزام لگا کر پاکستان کے لئے اپنی امداد منقطع کردی تھی جس کے نتیجے میں دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی آگئی تھی۔

اب اس وقت امریکہ علاقے میں بھرپور فوجی موجودگی کے لئے پاکستانی فوج کے رد الفساد نامی آپریشن کی حمایت کرکے ایک طرح سے اسلام آباد کی دلجوئی کرنا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ افغانستان میں اپنے علاقائی فوجی منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے پاکستان کا محتاج ہے لیکن روس اور چین کی طرف پاکستان کے جھکاؤ نے واشنگٹن کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اس سے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کا بجٹ بڑھ جائے ۔