عراق میں امریکی بمباری میں مارے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i279058-عراق_میں_امریکی_بمباری_میں_مارے_جانے_والوں_کی_تعداد_میں_اضافہ
عراق کے فوجی ذرائع نے مغربی موصل میں امریکہ کی زیر قیادت نام نہاد داعش مخالف اتحاد کی بمباری میں تیرہ عام شہریوں کے مارے جانے کی خبر دی ہے۔ مارے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۲:۵۹ Asia/Tehran
  • عراق میں امریکی بمباری میں مارے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ

عراق کے فوجی ذرائع نے مغربی موصل میں امریکہ کی زیر قیادت نام نہاد داعش مخالف اتحاد کی بمباری میں تیرہ عام شہریوں کے مارے جانے کی خبر دی ہے۔ مارے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسی Anatolia  کے مطابق عراقی فضائیہ کے عہدیدار عبداللہ الدوبردانی نے اس سلسلے میں مزید کہا ہے کہ امریکہ کی زیر قیادت نام نہاد داعش مخالف اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بدھ کے دن الیرموک کے علاقے میں چھ رہائشی مکانات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں تیرہ عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس بمباری میں سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تقریبا بیس دن قبل مغربی موصل کے الموصل الجدیدہ رہائشی علاقے میں متعدد لاشوں کو ملبے سے نکالا گیا تھا۔ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ اس کے بعد امریکی اتحاد نے رہائشی علاقوں پر بمباری میں اپنے  بلاواسطہ ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا تھا۔ عراق میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور حملوں کے خطرات میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور زیادہ افراد مارے جارہے ہیں جس سے ایک بار پھر یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ عراقی شہریوں کے قتل عام میں امریکہ اور دہشت گرد ملوث ہیں۔

امریکہ عراق سمیت مختلف ممالک میں اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد ان کو جائز ثابت کرنے کے لئے کہتا ہےکہ یہ حملہ غلطی سے ہوگیا یا یہ حملہ اس ملک کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا نام نہاد اتحاد عراق میں عملی طور پر اس ملک کے عوام کا ہی قتل عام کر رہا ہے اور اس اتحاد کے اقدامات کی وجہ سے دہشت گردی کے مقابلے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

عراق کی بنیادی تنصیبات  اور اہم مراکز پر بار بار کے فضائی حملوں اور امریکہ اور اس یورپی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں عام شہریوں کے قتل عام  سے دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں ان کی ماہیت کھل کر سامنے آچکی ہے۔ موصل سمیت عراق کے بعض علاقوں میں امریکیوں اور دہشت گردوں نے جو تباہی مچائی وہ اس قدر زیادہ ہے کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ موصل کی تعمیر نو کے لئے دس سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

امریکی اتحاد نے عراق میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے اور عراق اور شام میں اس اتحاد کی جانب سے کی جانے والی تباہی و بربادی سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نہ صرف داعش کے مقابلے میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ خطے میں دہشت گردوں کو اپنے مفادات کے لئے ایک حربےکے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

امریکہ کے اقدامات کے بعد علاقے کی رائے عامہ کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکہ کے جرائم و مظالم کے بارے میں جاری ہونے والی مختلف رپورٹوں کے بعد امریکی حکام کے پاس عراق اور شام میں اپنے جرائم و مظالم کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے ۔

دریں اثناء امریکہ اپنے بعض جرائم کا اعتراف کرنے کے ذریعے عراق و شام کی بنیادی تنصیبات کو تباہ اور عوام کا قتل عام کرنے پر مبنی اپنے ہولناک جرائم پر پردہ ڈالنے کے درپے ہے۔ امریکہ کے یہ اقدامات رائے عامہ کے وسیع اعتراضات اور عراق میں امریکہ کے مداخلت پسندانہ اور خود سرانہ اقدامات کے روکے جانے کے مطالبے پر منتج ہوئے ہیں۔

خطے کی کم از کم حالیہ پندرہ برسوں کی تاریخ سے اس بات کا پتہ چلتا ہےکہ امریکہ نےجہاں بھی فوجی مداخلت کی ہے وہاں اس نے سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے اور امریکہ کے زیر قبضہ علاقوں میں تباہ کن اور خطرناک گروہوں نے جنم لیا ہے۔ ان حالات میں عراق کی رائے عامہ نے مطالبہ کیا ہےکہ عراق میں امریکہ دہشت گردی کے مقابلے کے بہانے جن سازشوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے ان کے بارے میں وسیع پیمانے پر تحقیقات کی جائیں تاکہ عراق میں امریکہ کی مداخلتوں اور اس کے قبضے کے خطرناک نتائج دنیا والوں کے سامنے آسکیں۔