افغانستان کے بارے میں ماسکو نشست
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i279310-افغانستان_کے_بارے_میں_ماسکو_نشست
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ ابراہیم رحیم پور نے جمعے کو ماسکو میں افغانستان سے متعلق میں نشست میں شرکت کی۔ انہوں نے افغانستان کے سامنے موجودہ چیلنجوں اور مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ تمام ملکوں کو دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۱ Asia/Tehran
  • افغانستان کے بارے میں ماسکو نشست

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ ابراہیم رحیم پور نے جمعے کو ماسکو میں افغانستان سے متعلق میں نشست میں شرکت کی۔ انہوں نے افغانستان کے سامنے موجودہ چیلنجوں اور مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ تمام ملکوں کو دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔

ابراہیم رحیم پور نے اس نشست میں کہا کہ ایران تقریبا تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کررہا ہے اور وہ افغانستان کی حکومت سے اس ملک میں قیام امن اور داخلی اور علاقائی مشکلات کے حل نیز منشیات کی اسمگلنگ سے مقابلہ کرنے میں تعاون کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ اس نشست میں شرکت کرنے والے ملکوں نے تاکید کی ہے کہ افغانستان کا بحران فوجی راہ سے حل نہیں ہوسکتا اور وہ آمادہ ہیں کہ بحران کو حل کرنے کے لئے افغانستان کی حکومت سے تعاون کریں۔ اس نشست میں ایران، افغانستان روس، چین، ہندوستان، ترکمنستان، قرقیزستان، پاکستان، قزاقستان، تاجیکستان اور ازبکستان کے نمائندے موجود تھے۔

افغانستان چار دہائیوں سے مشرقی اور مغربی  جارحیتوں اورتباہ کن مداخلتوں کا شکار ہے۔ ان برسوں میں افغانستان کے عوام کو جو نصیب ہوا ہے وہ آوارہ وطنی اور طرح طرح کی مشکلات اور مصائب ہیں اس کے علاوہ انتہا پسندی اور دہشتگردی نے بھی ان پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے۔ افغانستان کے اقتصادی انفرا اسٹرکچر کے نابود ہونے کے بعد یہ ملک منشیات کی  پیداوار کا مرکز بن چکا ہے۔ دراصل امریکہ اور برطانیہ گذشتہ پندرہ برسوں میں دہشتگردی اور منشیات سے مقابلہ کرنے کے بجائے بدامنی اور منشیات کی پیداوار میں اضافہ کا سبب بنے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ افغانستان میں غیر تعمیری مسابقت سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ ادھر امریکہ نے جمعرات کو افغانستان میں  سب سے بڑے اور نہایت تباہ کن بم کا تجربہ کیا ہے تا کہ اس طرح روس کے مقابلے میں اپنی طاقت کا اظہار کرسکےحالانکہ افغانستان یا کسی اور بھی جگہ بمباری کرنے سے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی۔ حقیقت امر یہ ہے کہ دہشتگرد گروہوں کے مقابلے میں امریکہ کی پالیسیوں کے شفاف نہ ہونے اور اس کے دوہرے رویوں اور دہشتگرد گروہوں کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے سے افغانستان اور علاقے میں بدامنی اور بحران میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان کی حقیقی مدد جنگ اور دہشتگردوں کی حمایت سے دستبردار ہونا ہے اور عام شہریوں کے قتل عام کو ختم کرنا ہے۔

ان مشکلات اور ان چیلنجوں کے خاتمے کے لئے بہت سے مسائل کو مد نظر قرار دینا  پڑے گا۔ واضح سی بات ہے کہ ایران ان اہداف کو پانے کے لئے افغانستان میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ایران نے بارہا عملا اپنے اس تعاون کو ثابت کردکھایا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی ہر میدان میں افغانستان کی مدد کرنے میں ایران کے کردار کوسراہا ہے۔ افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے تادا میچین یاماموتو نے اپنے حالیہ دورہ تہران میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات میں افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے اور افغانستان میں امن و صلح کی برقراری کے لئے ایران کے تعمیری کردار کے جاری رہنے پر تاکیدکی ہے۔ ماسکو نشست میں ایران کے وفدنے بھی اسی امر پر تاکید کی ہے۔