شام میں دہشتگردوں کی انسانیت سوز کارروائیاں
شام کی وزارت خارجہ نے حلب کے راشدین علاقے کے دو شیعہ علاقوں الفوعہ اور کفریا پر دہشتگردوں کے حملوں پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔
شام کی وزارت خارجہ نے حلب کے راشدین علاقے کے دو شیعہ علاقوں الفوعہ اور کفریا پر دہشتگردوں کے حملوں پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہ کے نام الگ الگ مراسلے بھیج کر تاکید کی ہے کہ عالمی برادری کو دہشتگردی کے خلاف شام کی حکومت کے ساتھ ہماہنگ ہوجانا چاہیے۔
شام کی وزارت خارجہ نے اتوار کی رات یہ دو مراسلے روانہ کئے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ الفوعہ اور کفریا کے رنج دیدہ عوام پر کئے جانے والے دہشتگردانہ حملوں کی مذمت کریں۔ ان مراسلوں میں ان حکومتوں سے جنہوں نے الفوعہ اور کفریا پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو مسلح کیا ہے اور ان کی مالی مدد کرتے ہیں اور انہیں پناہ دیتے ہیں وضاحت طلب کی گئی ہے۔
واضح رہے حلب کے الراشدین کے الفوعہ اور کفریا کے علاقوں میں دو کار بم دھماکے ہوئے جن میں اڑسٹھ بچوں سمیت ایک سو چھبیس افراد شہید اور دو سو چوبیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے کے بعد اتوار کی شام کو بھی دمشق میں امویون نامی اسکوائر پر دہشتگردوں کے مارٹر حملے میں ایک بچہ اور اس کی ماں جاں بحق اور تیرہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دمشق پر دہشتگردوں کے حملے اور الفوعہ اور کفریا پر دہشتگردانہ حملے حمص میں الشعیرات فوجی اڈے پر امریکہ کے میزائل حملوں کے ایک ہفتے بعد انجام پائے ہیں۔ ان حملوں سے یہ پتہ چلتا ہےکہ امریکہ کے میزائل حملوں سے دہشتگردوں کے حوصلے بڑھے ہیں اور انہیں شہ ملی ہے کہ وہ الفوعہ اور کفریا کے نہتے عوام کے خلاف دہشتگرانہ جرائم انجام دیں۔
شام کی حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیاں طے پانے والے معاہدے کی رو سے الفوعہ اور کفریا کے محصور لوگوں کو بسوں کے ذریعے حلب پہنچایا جانا تھا لیکن ان پر دہشتگردوں نے پہلے سے بنائے ہوئے منصوبے کے تحت حملہ کردیا۔ دہشتگردوں کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کے پابند نہیں ہیں اور بنیادی طرح سے ان کے حامی ممالک بھی شام کے عوام کے امن و آسائش کا احترام نہیں کرتے۔ الراشدین کے علاقے میں دہشتگردوں کے اس حملے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردی سے مقابلہ کے دعویدار ممالک شام میں دہشتگردی کو نابود کرنے پر یقین نہیں رکھتے اور محض اپنے مفادات کے درپئے ہیں جس طرح سے کہ امریکہ نے خان شیخون کے بعد میزائل حملے کئے تھے ان سے کیا دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں کوئی مدد ملی تھی؟ امریکہ نے سات اپریل کو حمص میں شام کے فوجی اڈے الشعیرات پر میزائل برسائے تھے۔ نتیجے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ایسے ملک پر میزائلوں سے حملے کرنا جو دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں فرنٹ لائن پر ہے وائٹ ہاوس کی اعلان شدہ پالیسیوں سے تضاد رکھتا ہے۔
ادلب شام کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے اور اس کے بعض اطراف کے علاقے ترکی قطر اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ تینوں ممالک ایسے عالم میں دہشتگردی کے مقابلے کا دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے حمص میں شام کے فوجی اڈے پر امریکہ کے حملوں کی حمایت کی ہے اس کے علاوہ الفوعہ اور کفریا میں دہشتگردوں کی انسانیت سوز کارروائیوں پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ الفوعہ اور کفریا کے گھناؤنے دہشتگردانہ واقعات سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جو لوگ شام کے عوام کی حمایت کا دم بھرتے ہیں ان کی نظر میں شام کے عوام کی جان کی حفاظت کرنا ترجیح نہیں رکھتا۔
شام کے تعلق سے ٹرمپ انتظامیہ اوراس کے اتحادیوں کی موجودہ پالیسیاں دہشتگردی کے مقابلے کے اصول کے سامنے بے معنی ہوجاتی ہیں اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی خاموشی کے سائے میں ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کا نتیجہ الراشیدین کے دہشتگردانہ بم دھماکوں کی شکل میں بار بار نکلے گا۔