اسلامی امریکی کانفرنس، صیہونی سازش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i283040-اسلامی_امریکی_کانفرنس_صیہونی_سازش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تئیس مئی کو یعنی تقریبا ایک ہفتے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے موقع پر ریاض میں ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا جس میں بعض عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہ شریک ہوں گے۔ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سترہ ممالک کے سربراہوں کو ریاض کے دورے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دعوت نامے ارسال کر دیئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۳:۲۹ Asia/Tehran

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تئیس مئی کو یعنی تقریبا ایک ہفتے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے موقع پر ریاض میں ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا جس میں بعض عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہ شریک ہوں گے۔ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سترہ ممالک کے سربراہوں کو ریاض کے دورے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دعوت نامے ارسال کر دیئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کے دن ایک پریس کانفرنس میں اس اقدام کو صیہونی حکومت کی سازش قرار دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے پیش نظر اس کانفرنس کو دوسرا نام دے کر صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے دورۂ سعودی عرب سے قبل اس ملک میں ٹرمپ کے ایجنڈے کے بارے میں بعض خبریں منظر عام پر آئی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اس دورے کے موقع پر ٹرمپ اور محمد بن سلمان امریکی تاریخ  کے سب سے بڑے فوجی معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس فوجی معاہدے کی مالیت ایک سو ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اردن میں امریکہ کے مستقل فوجی اڈے کی تعمیر اور شام میں موجود نو سو امریکی فوجیوں کے علاوہ اس ملک کے مزید ایک ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے اخراجات بھی سعودی عرب کے پیٹرو ڈالروں کے ذریعے پورے کئےجائیں گے اور سعودی عرب کے یہ پیٹرو ڈالر امریکہ کی فوجی منڈی میں واپس پہنچ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب امریکہ کے لئے سونے کا انڈا دینے والی مرغی بن چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ آئندہ ایک عشرے کے دوران اس فوجی معاہدے کی مالیت کے تین سو ارب ڈالر سے بھی بڑھ جانے کا امکان ہے۔ شاید بظاہر ایسا نظر آئے کہ اتنی بڑی مقدار میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو فوجی سازوسامان دیئے جانے سے اسرائیل کی فوجی صلاحیت کم ہوجائے گی لیکن اس سلسلے میں ہر طرح کی تشویش کو دور کرنے کے لئے  بعض ذرائع نے کہا ہے کہ آل سعود حکومت نے صیہونی لابی کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کو کبھی بھی اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ سعودی عرب کے ذریعے بعض دوسرے اہم اہداف بھی حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ ان اہداف میں یمن کو دو حصوں شمالی یمن اور جنوبی یمن میں تقسیم کرنے پر مبنی ریاض کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ یہ مسئلہ خطے میں اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سازش کا مقصد آبنائے باب المندب پر مکمل تسلط حاصل کرنا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اخبار انڈی پینڈنٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان کو دنیا کے خطرناک ترین افراد قرار دیا ہے۔

ان حالات میں قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکہ، سعودی عرب، صیہونی حکومت اور بعض عرب ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے۔ ان تمام اہداف کے پیش نظر مختلف پہلووں سے ٹرمپ کا دورۂ سعودی عرب بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دورے کا اصل مقصد خطے میں جیو پولیٹیکل تبدیلیاں لانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ہاتھوں صرف ہتھیار فروخت کرنے کی صورت میں ہی اس ملک سے فائدہ نہیں اٹھاتا ہے بلکہ واشنگٹن کے حکام نے علاقائی تبدیلیوں کے لئے ریاض کو اپنے آلۂ کار کے طور پر استعمال کرنے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اس لئے امریکہ اور سعودی عرب کے نئے اقدام کے خطے کے سیکورٹی اور اسٹریٹیجک امور پر طویل المیعاد اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب خطے پر تسلط حاصل کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر طرح کی سازش کوعملی جامہ پہنانے کے لئے تیار ہے۔