امریکی وزیر خارجہ کے ایران مخالف بیانات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i286656-امریکی_وزیر_خارجہ_کے_ایران_مخالف_بیانات
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کل سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں ایک بار پھر یہ دعوی کیا کہ ایران بدستور مشرق وسطی میں اپنی سرگرمیاں اور مداخلت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس سے اس خطے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۳ Asia/Tehran
  • امریکی وزیر خارجہ کے ایران مخالف بیانات

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کل سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں ایک بار پھر یہ دعوی کیا کہ ایران بدستور مشرق وسطی میں اپنی سرگرمیاں اور مداخلت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس سے اس خطے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔

ریکس ٹیلرسن نے خطے میں اسلامی استقامت کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران استقامت کو ہتھیار دے کر ہمارے اتحادی اسرائیل کے لئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ ٹیلرسن نے مزید کہا کہ ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ اہداف کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

ریکسن ٹیلرسن کے بیانات بہت واضح ہیں اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا محکمہ خطے میں سعودی عرب کے پیدا کردہ غلط ماحول سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ان بیانات سے دو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام ایک جانب سعودی عرب سے امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کوفائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور دوسری جانب اپنے علاقائی اتحادیوں خصوصا سعودی عرب کو آلۂ کار کے طور پر استعمال کر کے صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت کے محاذ کو کمزور کر کے اسرائیل کی سلامتی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجہ سے اب امریکہ اور اسرائیل اپنے ہدف کے قریب تر ہوگئے ہیں اور اپنا یہ ہدف حاصل کرنے کے لئے ان کو حتی ایک گولی بھی نہیں چلانی پڑی ہے۔

پاکستان کے صحافی اور کالم نگار محمد اسلم خان نے اس موضوع کے بارے میں اخبار نوائے وقت میں قطری بحران کے نام سے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے قطر کا محاصرہ جاری ہے جس کی ڈوریاں ریاض نہیں تل ابیب سے ہلائی جا رہی ہیں گذشتہ دنوں تواتر سے اطلاعات آ رہی تھیں کہ اسرائیل اور سعودی حکمران خاندان آل سعود کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہو رہی ہے جن پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا کہ خادم حرمین شریفین یہودیوں سے دستِ دوستی کیسے بڑھا سکتے ہیں یہ انہونی، ہونی کیسے ہو سکتی ہے لیکن خاندان بادشاہت بچانے کے لئے اپنے حلیف قطر پراچانک ایسا کاری وار کیا ہے کہ سارا خطہ بحران کی لپیٹ میں آگیا ہے۔

تل ابیب کے شاطر یہودیوں نے کچھ ایسا کھیل کھیلا ہے کہ سارا خطہ بحران کی لپیٹ میں آچکا ہے جو کسی بھی وقت صرف ایک چنگاری کا شکار ہوکر خوفناک میدان جنگ بن جائے گا حجاز مقدس کی سر زمین پر مسلمان، مسلمان کا گلا کاٹیں گے نہیں جناب ہم عقیدہ سنی مسلمان سب سے پہلے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے۔ کالم نگار نے مزید لکھا ہے کہ امیر قطر کی سادگی ملاحظہ کیجئے کہ وہ اب بھی اس مغالطے میں ہیں کہ العدید کا امریکی فوجی اڈا بعض پڑوسی ملکوں کی طرف سے لاحق خطرات کی روک تھام اور قطر کے دفاع کا اہم سبب بنے گا۔ جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اب کھل کر قطر پر دہشت گردوں کی مالی امداد کی طویل تاریخ رکھنے کا الزام لگا رہے ہیں ۔

کیا سادگی ہے کہ جواں سال امیرشیخ تمیم کا خیال ہے کہ امریکی بندوقیں وقت پڑنے پر ان کی حفاظت کریں گی ۔ نہیں جناب آپ ان کا پہلا ہدف اور نشانہ ہوں گے۔ واضح سی بات ہے کہ دھوکہ دہی پر مبنی ٹیلرسن کے بیانات  بوڑھے برطانوی سامراج کی اسی گھسی پٹی پالیسی کی تکرار ہے کہ اختلاف ڈالو اور حکومت کرو ۔ برطانوی سامراج نے اسی پالیسی کے ساتھ خطے کی صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور اب ٹرمپ کے زمانے میں امریکہ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

امریکہ کی اس پالیسی کا ایک اور مقصد مغربی ایشیا کے علاقے کو ایک مسلط کردہ بحران میں الجھائے رکھنا ہے۔ اس بحران کا آغاز افغانستان اورعراق پر امریکہ کے حملے کے ساتھ ہوا تھا اور اس جنگ کا دائرہ شام، عراق میں داعش کی جنگ اور یمن میں سعودی عرب کی جنگ تک پھیل گیا اوراب امریکہ ایک اور پراکسی وار شروع کرانے کے درپے ہے۔

شاید ٹیلرسن کے علم میں یہ بات ہوگی کہ نائن الیون کے واقعات میں ملوث انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ البتہ سعودی حکام اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے بہت زیادہ ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ ان کا مقصد انتہا  پسندی اور وہابی ازم کو الگ الگ ظاہرکرنا ہے۔  اس طرح کی کوشش حالیہ کانفرنسوں میں نظر آتی ہے۔ ان میں سے ایک کانفرنس سات جون کو عرب فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بلائی گئی جس کا عنوان تھا"وہابی ازم اور دہشت گردی، کیا سعودی عرب آگ بھڑکانے والا ہے یا آگ بجھانے والا ہے؟ " سعودی حکام امریکہ کے سامنے اپنا ایک اور چہرہ پیش کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے دہشت گردی مخالف اتحاد تشکیل دیا ہے اور امریکہ نے بھی یہ پیغام حاصل کر لیا ہے۔

البتہ انتہا پسندی کے مقابلے کے اس دعوے سے صرف نظر کرتے ہوئے یہاں پر یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب میں سے کونسا ملک  دوسرے سے پہلے اس کھیل سے باہر نکل جائے گا؟

امریکی سیاستدانوں کا اس سلسلے میں جواب واضح نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک ہر چیز کا انحصار امریکی مفادات، امریکہ کے مستقبل اور آلۂ کار کے طور پر سعودی حکام کے استعمال ہونے کی مدت پر ہے۔ البتہ عراق میں صدام اور لیبیا میں قذافی کے ظالم نظام کا انجام شاید اس سوال کا واضح جواب قرار پا سکتا ہے۔ سعودی عرب کی حیثیت اس وقت ایک آلۂ کار کی سی ہے۔ سعودی حکام اگر اپنی اسٹریٹیجک غلطیوں پر اڑے رہے تو ان کو ایک تاریک اور کٹھن راستے پر چلنا ہوگا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا امریکہ کے تمام اتحادیوں کو کچھ نہ کچھ تجربہ ہے اور خطے کی تاریخ سے امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے انجام کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔