ایران اور روس کے باہمی تعاون میں توسیع پر تاکید
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے چودہ اگست کو روس کے صدر ولادیمیرپوتن سے ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ علاقے کے بہت سے مسائل منجملہ یمن، عراق، شام اور خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے بحرانوں اور مسائل کو حل کرنے کے لئے ایران اور روس کے درمیان صلاح و مشورے کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی اپنے ہمسایہ ملکوں خاص طور پر روس کے ساتھ تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہے - صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ روس ایٹمی معاہدے کی تقویت اور سبھی فریقوں کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے .
ایران اور روس کے درمیان وسیع اشتراک عمل پایا جاتا ہے۔ یہ اشتراک عمل مشترکہ جامع ایکشن پلان پر منتج ہونے والے ایٹمی مذاکرات سے لے کر شام کے بحران کے حل سے متعلق بلائے جانے والے آستانہ مذاکرات تک جاری رہا ہے۔ ایران اور روس کے وسیع اشتراک عمل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دونوں ممالک اسٹریٹیجک تعاون کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس باہمی تعاون کی سطح بلند کرنے کے لئے مسلسل ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ایران میں ڈاکٹر حسن روحانی کی صدارت کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ہونے والی مشاورت درحقیقت تمام شعبوں میں تہران ماسکو تعلقات کی تقویت میں فریقین کی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ ایران اور روس نے اپنے مشترکہ ایجنڈے میں دو اہم اہداف قرار دے رکھے ہیں۔ پہلا ہدف دہشت گردی کے خلاف فوجی اقدامات کو جاری رکھنے سے عبارت ہے۔ ان اقدامات کے اثرات دہشت گردوں کے قبضے سے عراق اور شام کے علاقوں کی آزادی کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ دوسرا ہدف دونوں ممالک کی سیاسی اور اقتصادی صلاحیتوں کو بروئےکار لا کر علاقائی اور عالمی سطح پر دوطرفہ باہمی تعاون میں اضافہ کرنا ہے تاکہ خطے میں امریکہ کی تباہ کن مداخلتوں کا مقابلہ اور اس علاقے کو امن و استحکام سے ہمکنار کیا جاسکے۔
علاقائی سطح پر ایران اور روس کے اشتراک عمل سے یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ ان دونوں ممالک نے دو طرفہ تعلقات کی سطح بلند کی ہے ۔ اس کے علاوہ اگرچہ بعض مسائل کے بارے میں ان کے موقف الگ الگ ہیں لیکن اس کے باوجود مشترکہ خطرات اور خطے میں بدامنی پیدا کرنے پر مبنی امریکی اقدامات کے مقابلے کے سلسلے میں دونوں ممالک میں مکمل طور پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ دولت مشترکہ کے انسٹی ٹیوٹ کے ایک اعلی عہدیدار ولادیمیر یفسییف نے رواں سال اکتیس مئی کو ارنا کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ مختلف میدانوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں پائیدار توسیع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران اور روس کا جواب ہے۔ ولادیمیر یفسییف کے زاویۂ نگاہ سے تہران اور ماسکو کے تعلقات اب احتیاط کے مرحلے سے آگے بڑھ کر استحکام کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں اور دونوں آپس میں اسٹریٹیجک تعاون کر رہے ہیں۔ ولادیمیر یفسییف کا خیال ہے کہ یہ تعاون ڈاکٹر حسن روحانی کے دوسرے دور صدارت میں مختلف شعبوں میں تہران ماسکو تعلقات میں مزید توسیع کے سلسلے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ایران اور روس کے تعلقات کے تناظر میں مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں ممالک اپنی گوناگوں صلاحیتوں کے پیش نظر اقتصادی مسائل کے علاوہ وسطی ایشیا کے سیکورٹی مسائل اور کیسپیئن سی کے امور اور مغربی ایشیا کی عسکری صورتحال کے سلسلے میں بھی باہمی تعاون میں فروغ لا سکتے ہیں۔ موجودہ حساس صورتحال میں باہمی تعلقات کی تقویت اور باہمی اتحاد کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے صدور نے اپنی ٹیلی فونی گفتگو کے دوران اسی موضوع پر تاکید کی ہے۔