رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں انقلابی جوانوں کا کردار
رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کے نقطہ نگاہ سے جوان، ایسے گرانبہا خزانے ہیں جو انقلابی جذبے اور معنوی محرکات کے ساتھ عظیم آثار کا سرچشمہ قرار پا سکتے ہیں-
رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے پیر کے روز صوبہ یزد اور ہمدان کے تعلیمی اور ثقافتی امور کے عہدیداروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان نسل کے درمیان انقلابی جذبے کے فروغ کی اہمیت کا ذکر کیا اور ثقافتی شعبے کے حکام پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے مختلف حصوں میں انقلابی راہ اور جذبے کی فضا کو وسعت دیں.
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے موجودہ دنیا میں نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی غرض سے وجود میں آنے والے ماحول اور وسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کے نقصان دہ پروپیگنڈے اور گمراہ کن آوازوں کے مقابلے میں، نوجوانوں کی ہدایت و رہنمائی اور ذہنی تربیت کے لیے بھی عظیم گنجائش اور وسائل موجود ہیں-
رہبر انقلاب اسلامی نے شہید محسن حججی کو اسلامی اور انقلابی تربیت کا عملی نمونہ قرار دیا۔آپ نے فرمایا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں ذہنوں کو منحرف کرنے والے لاتعداد سمعی و بصری دریچے کھلے ہوئے ہیں، شہید محسن حججی اسطرح سے ابھر کر آئے کہ ہم سب کے سامنے ایک حجت اور دلیل بن گئے۔
جوانوں کے درمیان گرانبہا اہداف کے ساتھ پایا جانے والا انقلابی جذبہ، ایک ایسے وقت میں کہ جب مغربی دنیا جوانوں کو انحرافی راستوں اور مذہبی و معنوی اقدار سے دور رکھنے کی جانب ترغیب دلا رہی ہے، ایک نایاب عنصر میں تبدیل ہوگیا ہے- افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مغربی دنیا میں، جوانوں کے درمیان پائی جانے والی مثبت اور تعمیری توانائیوں کو انتہاپسندانہ اور اخلاقی و اجتماعی برائیوں کی جانب مائل کیا جا رہا ہے اور یہ چیز آج بہت سے معاشروں کے لئے خطرہ بن گئی ہے-
انتہاپسندی کی جانب بڑھتا ہوا رجحان، نہ صرف مغربی معاشروں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ مغربی ثقافت کے اثر و رسوخ کے سبب مشرقی معاشروں میں بھی ایک ٹھوس خطرہ بنتا جا رہا ہے- انتہاپسندی کے تباہ کن اور خطرناک آثار کا، آج واضح طور پر ایسے ملکوں میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جو دہشت گردانہ اقدامات کا مرکز اور داعش دہشت گرد گروہ کا گڑھ ہیں- ان معاشروں نے درحقیقت اپنے بہت سے جوانوں کو اپنے ہاتھوں سے کھو دیا ہے اور اس عظیم خلا کے ساتھ ہی وہ برسوں تک اسی طرح مختلف سماجی، سیاسی اور اخلاقی مسائل کا شکار رہیں گے-
جوانوں کے افکار کو خراب کرنے کا نتیجہ معاشرے کی بنیادوں کو متزلزل کرنا اور دینی و اخلاقی عقائد کو کمزور کرنا ہے- آج تسلط پسند قوتیں ، کہ جن میں سرفہرست امریکہ ہے ، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو جوانوں کو نابود کرنے اور اسلام اور مغرب کے درمیان تقابل اور تضاد کی فضا قائم کرنے کے وسیلے کے طورپر استعمال کر رہی ہیں-
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جوانوں کے درمیان الہی و معنوی افکار کی ترویج وہ اہم عنصرہے کہ جس سے جوانوں کو گہرے کردار کا حامل بنایا جا سکتا ہے- اور ایسا ہونے کی صورت میں جوان طبقہ عالمی امن کی تعمیر میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے- یہ وہی حقیقت ہے کہ جس کی جانب رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ فرمایا ہے-
رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر کے مطابق شہداء " اسلامی اخلاق کی چوٹیاں" اور " جوان نسل کے کے لئے نمونۂ عمل" ہیں اور اسلامی انقلاب نے، تسلط پسند نظام کے مقابلے میں جوانوں کی استقامت اور جانفشانیوں کے سبب ملت ایران کو تشخص عطا کیا ہے-
چنانچہ رہبر انقلاب اسلامی فرماتے ہیں کہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ انقلاب کی اس عظیم اور طاقتور تحریک کو جو، خوش قسمتی سے ہمارے جوانوں میں موجود ہے، مزید طاقتور بنائیں، اور ایسے کام نہ کریں کہ یونیورسٹیوں، تعلیمی اداروں اور دینی تبلیغ کے عمل میں انقلابی اور اسلامی جذبے کی مخالف تحریک کو طاقتور ہونے کا موقع ملے۔