صدر حسن روحانی اور ان کی نئی کابینہ کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i295744-صدر_حسن_روحانی_اور_ان_کی_نئی_کابینہ_کی_رہبرانقلاب_اسلامی_سے_ملاقات
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ان کی نئی کابینہ کے ارکان اور اعلی حکومتی عہدیداروں نے ہفتہ حکومت کی مناسبت سے ہفتے کے دن رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں اقتصاد کو ایران کی حقیقی اولین ترجیح قرار دیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۵:۰۰ Asia/Tehran
  • صدر حسن روحانی اور ان کی نئی کابینہ کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ان کی نئی کابینہ کے ارکان اور اعلی حکومتی عہدیداروں نے ہفتہ حکومت کی مناسبت سے ہفتے کے دن رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں اقتصاد کو ایران کی حقیقی اولین ترجیح قرار دیا۔

حکومت کی جانب سے اقتصادی امور پر توجہ دیئے جانے پر رہبر انقلاب اسلامی کی تاکید متعدد پہلووں سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس مسئلے کو اہمیت دیئے جانے کی ایک وجہ کمزور اقتصاد کے تباہ کن اثرات پر توجہ سے عبارت ہے۔ کمزور اقتصاد کے اثرات تباہ اور طویل المیعاد ہوتے ہیں۔ مہنگائی، کساد بازاری اور شہریوں کا درآمد کی جانے والی اشیا سے وابستہ ہو جانا کسی بھی ملک کی کمزوری شمار ہوتی ہے۔ اس کمزوری کا ایک حصہ پابندیوں اور غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ لیکن کسی ملک کا تیل کی آمدنی پر انحصار کرنا ایک بہت سنجیدہ مسئلہ شمار ہوتا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے سے ملکی اقتصاد کو ضرب لگتی ہے۔ اسی نکتے کے پیش نظر رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ اقتصاد کو تیل سے نجات دلائی جانی چاہئے۔

ایران میں موجود صلاحیتوں، افراد قوت اور وسائل و امکانات کے پیش نظر اس ہدف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے کچھ اقدامات انجام دینا ہوں گے۔ موجودہ حالات میں حکومت کو دوسرے ہر زمانے سے زیادہ پلاننگ اور مفید نیز رسک کرنے والی افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ دوسرے موضوعات پر اقتصاد کو اہمیت دیتے ہوئے اقتصادی پالیسیوں کو عملی جامہ  پہنائے اور اقتصادی پالیسیوں کو دوسرے مسائل سے متاثر نہ ہونے دے۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں سفارتکاری کے میدان میں دینی اور انقلابی جذبے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ سفارتی مسائل میں ہمیں اپنے انقلاب پر فخر کرنا چاہئے۔ اور انقلاب کے نتیجے میں بننے والے اپنے قومی اصولوں منجملہ سامراج کے مقابلے میں ثابت قدمی، ظلم کی نفی اور تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت جیسے اصولوں پر فخر اور عزت کا احساس کرنا چاہئے- رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ سفارتکاری کے میدان میں ہمیں صرف چند ملکوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سفارتکاری کا دائرہ پوری دنیا تک پھیلانے کی ضرورت ہے - رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ سفارتکاری کے میدان میں پوری ہوشیاری، دقت عمل اور تیزرفتاری کے ساتھ عمل کرنا چاہئے اور خداوند عالم کے فضل و کرم سے جس طرح سے اب تک آپ آگے بڑھے ہیں آئندہ بھی دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔