چین ایران میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
چین ایران میں تیل و گیس کے شعبے میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران اور چین باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جس میں تیل و گیس کے شعبے میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاملہ شامل ہے۔چین کے صدر شی جن پھنگ کے حالیہ دورہ تہران کے موقع پر دونوں ملکوں کے اعلی عہدیداروں نے توانائی کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں اور سمجھوتوں کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق، سائنوپیک اور نیشنل پٹرولیم جیسی چینی کمپنیوں نے گزشتہ برس ایران کی قومی تیل کمپنی اور دیگر ایرانی شراکت داروں کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے۔چین کی سی این پی سی کمپنی نے بھی اعلان کیا ہے اس نے ایران میں ایل این جی کے شعبے کی ترقی اور سالانہ پچھتر ملین ٹن قدرتی مائع گیس کی پیداوار کے لیے ضروری تنصیبات تعمیرکے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن دوہزار چودہ کے دوران چین کے لیے ایران کی پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اٹھائیس فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔